سٹی 42: برطانیہ کے وزیر برائے مشرق وسطیٰ، افغانستان اور پاکستان ہیَمش فالکنر نے اسلام آباد کے دو روزہ دورے کے دوران پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف مشترکہ اقدامات بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے میں پاکستان کے کردار کو بھی سراہا۔
برطانوی وزیر نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات میں امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ امن معاہدے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور ثالثی کے کردار پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں استحکام کے لیے اہم کردار ادا کیا اور برطانیہ پائیدار امن کے قیام کے لیے پاکستان سمیت شراکت دار ممالک کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
دورے کے دوران برطانیہ نے پاکستان کے ساتھ جرائم، انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف مشترکہ اقدامات کے لیے 80 لاکھ پاؤنڈ کی اضافی مالی معاونت کا اعلان بھی کیا۔
برطانوی حکومت کے مطابق یہ فنڈز سرحدی اور ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے، انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں اور غیر قانونی امیگریشن کے بنیادی اسباب کے خاتمے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
ہیَمش فالکنر نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان شراکت داری عالمی، علاقائی اور قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ دونوں ممالک دہشت گردی، ویزا فراڈ اور منظم جرائم کے خلاف قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نئی مالی معاونت کے ذریعے غیر قانونی امیگریشن کی حوصلہ شکنی اور اس کے اسباب کا خاتمہ کیا جائے گا، جبکہ ایسے افراد کی واپسی میں بھی مدد دی جائے گی جنہیں برطانیہ میں رہنے کا قانونی حق حاصل نہیں۔
دورے کے دوسرے مرحلے میں برطانوی وزیر پاکستانی حکام کے ساتھ غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے جاری مشترکہ اقدامات کا عملی مظاہرہ بھی دیکھیں گے۔ اس منصوبے کے تحت پاکستانی ہوائی اڈوں پر جعلی یا غیر حقیقی ویزا دستاویزات رکھنے والے مسافروں کی نشاندہی اور روک تھام کی جا رہی ہے۔
برطانوی وزیر داخلہ، اعلیٰ تعلیمی کمیشن اور دیگر حکام سے ملاقاتوں میں ویزا نظام کے غلط استعمال کی روک تھام اور تعلیمی شعبے میں تعاون کے فروغ پر بھی بات چیت کریں گے۔
ہیَمش فالکنر نے پاکستان کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان سے بھی ملاقات کی، جس میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی، دہشت گردی کے خطرات اور علاقائی استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ برطانیہ نے دہشت گردی کے خلاف تعاون اور مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔