خورشید رحمانی: ایف آئی اے امیگریشن نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے جعلی سفری و ملازمتی دستاویزات، وزٹ ویزوں پر غیر قانونی ملازمت اور غیر قانونی طور پر یورپ منتقل کرنے کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق کارروائیوں کے دوران 5 ملزمان کو مزید تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل (AHTC) کراچی کے حوالے کر دیا گیا۔ترجمان کے مطابق ملائیشیا جانے والے محمد عدنان امام، وحاج، ابراہیم اور سید عمر ابرار کے پاس سے Digital Sky Hub Company کے جعلی ملازمتی کارڈز اور Malaysia IT Exhibition 2026 کا جعلی دعوت نامہ برآمد ہوا۔دورانِ پوچھ گچھ مسافروں نے وزٹ ویزوں پر ملائیشیا میں ملازمت کرنے کا اعتراف کیا، جبکہ لاکھوں روپے کی مالی لین دین کے شواہد بھی سامنے آئے۔مسافروں کے موبائل فونز سے ملائیشیا میں ملازمت سے متعلق معاہدہ بھی برآمد ہوا، جبکہ محمد عدنان امام کے لیپ ٹاپ سے مبینہ غیر قانونی ریکروٹمنٹ سرگرمیوں سے متعلق مزید شواہد ملنے کا بھی شبہ ہے۔ترجمان کے مطابق تمام مسافروں کو مزید تحقیقات کے لیے AHTC کراچی کے حوالے کر دیا گیا۔
دوسری کارروائی میں سعودی عرب سے ابوظہبی کے راستے کراچی پہنچنے والے مسافر قاصم علی نے انکشاف کیا کہ عرفان نامی ایجنٹ نے 40 لاکھ روپے کے عوض اسے پرتگال پہنچانے کا وعدہ کیا تھا۔قاصم علی کے مطابق ابوظہبی میں اسے حمزہ علی کے نام سے فرانسیسی پاسپورٹ اور پرتگال کا بورڈنگ پاس فراہم کیا گیا۔ پرتگال جانے کی کوشش کے دوران اسے گرفتار کرکے پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔کراچی ایئرپورٹ پر مزید تلاشی کے دوران قاصم علی کے قبضے سے اٹلی کا جعلی ویزا اسٹیکر اور حمزہ علی کے نام کا بیگج ٹیگ بھی برآمد ہوا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دونوں کارروائیوں میں انسانی اسمگلنگ، جعلی سفری دستاویزات، غیر قانونی امیگریشن اور بیرونِ ملک غیر قانونی ملازمت کے نیٹ ورکس کے خلاف تحقیقات جاری ہیں، جبکہ مزید سہولت کاروں اور ایجنٹس کی گرفتاری متوقع ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے ایسے منظم نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے تک بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔