سٹی 42: پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان کے استحکام، سلامتی اور بقا کے لیے علماء و مشائخ کا بنیادی کردار ہے، تمام مکاتب فکر کے علماء، مشائخ اور مدارس کے منتظمین ملک کے دفاع اور استحکام کے لیے متحد ہیں۔
حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ کانفرنس میں مدارس کو درپیش مختلف مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ جن مسائل کا حل متعلقہ فورمز پر ہونا ہے، انہیں جلد حل کروایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اور اس کے استحکام و سلامتی کے لیے ہم سب متحد ہیں۔ قیام پاکستان میں علماء و مشائخ نے اہم کردار ادا کیا اور آج بھی پاکستان کے استحکام اور دفاع کے لیے علماء و مشائخ ایک ہیں۔
طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ معاہدہ مکہ مسلم امہ کے اتحاد اور وحدت کی جانب اہم پیش رفت ہے، جبکہ اسلامی دنیا کے مضبوط اتحاد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ مکہ مکرمہ کے دروازے دیگر اسلامی ممالک کے لیے بھی کھلے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام کی سربلندی، پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے تمام مکاتب فکر ایک پرچم تلے متحد ہیں۔ پاکستان کا دفاع، سلامتی اور استحکام ہمیں اپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔
چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے بتایا کہ دیگر مدارس کے بورڈز کے ساتھ مل کر مربوط اور مضبوط نظام تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ مدارس کی رجسٹریشن، اکاؤنٹس اور مالی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی محمد زبیر نعیم نے کہا کہ مدارس کے مختلف مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور انہیں متعلقہ فورمز پر جلد حل کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
علامہ محمد تقیّر عباس نے کہا کہ ملک بھر کے 22 ہزار مدارس کے نمائندگان کانفرنس میں موجود ہیں، جبکہ مدارس دینیہ لاکھوں بچوں کو تعلیم فراہم کرنے والے اہم ادارے ہیں۔
مفتی الشیخ عبد اللطیف نے مدارس کی رجسٹریشن اور مالی معاملات کو بہتر انداز میں حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت مدارس کے مالی مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
مولانا فرید احمد حقانی نے کہا کہ مدارس کے مسائل جس فورم پر حل ہونے ہیں، حکومت انہیں جلد حل کرے، جبکہ مدارس ریاست کی مکمل پالیسی کی حمایت کرتے ہیں۔
مفتی غلام اصغر صدیقی نے کہا کہ مدارس کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق رجسٹریشن کا عمل مکمل کیا جائے اور مدارس کی رجسٹریشن، اکاؤنٹس اور مالی معاملات کو بہتر بنایا جائے۔