ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 پیک آوورز کے علاوہ لوڈ شیڈنگ نہیں کی جائے گی ؛ وزیر توانائی اویس لغاری

تقریباً 3400میگاواٹ کے شارٹ فال ؛بجلی کے استعمال میں کفایت شعاری سے کام لیں؛ وزیر توانائی اویس لغاری

 پیک آوورز کے علاوہ لوڈ شیڈنگ نہیں کی جائے گی ؛ وزیر توانائی اویس لغاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی پریس کانفرنس اپریل کے مہینے کے آغاز سے ہی وزرات توانائی نے اپنے بیانات میں لوڈشیڈنگ کے حوالے سے اپنا موقف سامنے رکھا گزشتہ برسوں میں مسلم لیگ ن کی حکومت کی کوششوں سے عوام کو اندھیروں سے آزاد کیا پاکستان کی تعریف آج بین الاقوامی میڈیا بھی کر رہا ہے یکم اپریل سے ہماری ایل این جی باہر سے آنا بند ہوئی۔ ایل این جی کے پلانٹس سے گزشتہ برس اپریل میں تین ہزار میگاواٹ بنائے جا رہے تھے رواں برس اپریل میں ایل این جی سے اب ایک ہزار 671 میگاواٹ بجلی بنائی جا رہی ہے 1 ہزار 530 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کا شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے آبنائے ہرمز کی بندشوں اور ایل این جی کے نا آنے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

اویس لغاری نے کہا آج کی پریس کانفرنس میں آپ کے سامنے اپریل کے مہینے میں بجلی کی پیداوار، ڈیمانڈ اور خلیج کی صورتحال کی بدولت پڑنے والے اثرات پر مبنی حقائق و اعداد وشمار رکھنا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلے اپریل میں اگر ڈیمانڈ کی بات کی جائے تو ایک طرف ہم نے کم ترین ڈیمانڈ 9000میگاواٹ کا سامنا کیا ہے اور صرف 6دن کے بعد 15اپریل کو 20000میگاواٹ کی ڈیمانڈ آئی ہے اس سے آپ تصور کرسکتے ہیں کہ کتنا فرق آیا ہے۔ پچھلے سال اپریل کے مہینے میں ہم نے پن بجلی سے 3200میگاواٹ بجلی پیدا کی جبکہ ایل این جی سے 3000میگاواٹ بنی اور فرنس آئل کا نہ ہونے کے برابر استعال ہوا کیونکہ اس کا بجلی کی قیمتوں پر اس کا اثر پڑتا ہے۔ اب اس سال اپریل کی طرف آتے ہیں خلیج کی صورتحال کی وجہ سے ہمارے تقریباً سارے ایل این جی پلانٹس کو گیس کی سپلائی بند ہے۔ ان تمام ایل این جی پلانٹس کی پیداواری صلاحیت 6000میگاواٹ ہے جس میں سے صرف 500میگاواٹ بجلی پیدا ہورہی ہے اور وہ بھی کول گیس سے۔ پن بجلی سے اس سال اپریل میں 1600 میگاواٹ بجلی بن رہی ہے۔ اگر ہمیں ایل این جی دستیاب ہوتی اورپن بجلی بھی بن رہی ہوتی تو ہم اس قابل ضرور ہیں کہ ہم اس کمی کو پورا کرپاتے کیونکہ ایل این جی پاور پلانٹس کی کل استعداد 6000 میگاواٹ ہے۔ اس وقت ایل این جی اور پن بجلی کی کمی سے جتنا فرق پڑرہا ہے اس کو کم کرنے کیلئے ہم فرنس آئل کے پلانٹس چلا رہے ہیں تاہم اب بھی ہمیں تقریباً 3400میگاواٹ کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔ ہر 500سے 600میگاواٹ کے شارٹ فال پر تقریبا ایک گھنٹے کی لوڈ منیجمنٹ کی جاتی ہے اور 3400میگاواٹ کے شارٹ فال سے ہمیں 6سے 7گھنٹے کی لوڈ منیجمنٹ کرنی پڑ رہی ہے۔ ہم اس وقت بھی بھر پور کوشش کررہے ہیں کہ ایندھن کا بندوبست کیا جائے تاکہ بجلی کی پیداوار بڑھائی جائے اس وقت دیہاتی اور شہری علاقوں میں یکساں لوڈ منیجمنٹ کی جارہی ہے۔ دن کے اوقات میں لوڈ منیجمنٹ نہیں ہوتی کیونکہ دن کے اوقات میں ہمارے پاس ڈیمانڈ کم اور پیداوار وافر ہوتی ہے۔ صارفین سے درخواست ہے کہ بجلی کے استعمال میں کفایت شعاری سے کام لیں اس وقت ہم ایک بین الاقوامی صور تحال کی وجہ سے ایمرجنسی کی حالت میں ہیں۔ ہمیں بجلی کے استعمال میں احتیاط برتنی ہوگی تاکہ رات کے اوقات میں بجلی کو کم سے کم بند کیا جائے۔ اللہ تعالٰی کاشکر ہے کہ ہمارے پاس مختلف ذرائع سے چلنے والے پاور پلانٹس موجود ہیں جو کہ ہماری ہی حکومت کی کاوشوں سے ممکن ہوا ہے۔ آج اگر کوئلے، ہوا، سولر،نیو کلیر اور دیگر ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے کارخانے نہ لگے ہوتے تو ہماری حالت بہت ہی خراب ہوتی۔ اس وقت ہم غیر معمولی اور جنگ کی وجہ سے حالات کا سامنا کر رہے ہیں جو کہ س سے بین الاقوامی نہیں۔ہماری کوشش ہے کہ ہر وہ پہلو ضرور دیکھا جائے جس سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے۔  لوڈشیدنگ پر عوام کو تکلیف پر معذرت خواہ ہیں. 
باہر سے گیس نہ آنے کی وجہ سے بجلی کم پیدا ہوئی پن بجلی میں1530میگاواٹ کی کمی ہوئی ہے صوبوں نے بارشوں کی وجہ سے پانی نہیں مانگا اور ڈیموں سے پانی ریلیز نہیں ہوا بجلی کا چار ہزار سے زیادہ کا شاٹ فال ہے دن کو لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی جب ڈیمانڈ ساڑھے سولا ہزار سے بڑھتی ہے تو گیس سے بجلی پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے شام کے وقت ضرورت کے مطابق لوڈشیڈنگ کو بڑھانا پڑتا ہے ملک میں ایک گھنٹہ لوڈشیڈنگ پانچ سومیگا واٹ کی وجہ سے ہوتی ہے
 پیک آوورز کے علاوہ لوڈ شیڈنگ نہیں کی جائے گی جب گیس دستیاب نہیں ہوتی تو اس کے متبادل بجلی پیدا کرنے کے لیے کوئی ایندھن استعمال نہیں ہو سکتا  .لوڈ شیڈنگ کو ضرورت کے حساب سے بڑھانا پڑتا ہے اگر پورے پاکستان میں ایک گھنٹہ لوڈ شیڈنگ ہو تو پانچ سو میگاواٹ شارٹ فال کی وجہ سے ہوتی ہے. لوگ سوشل میڈیا پر بغیر تحقیقات اور علم کے پوسٹ کر رہے ہیں ایران اور امریکہ کے مابین جنگ کے باعث یہ عارضی حالات پیدا ہوئے ہیں پن بجلی کی کمی گیس کے ذریعے پوری کر سکتے تھے .کل رات سے پاکستان کے اندر منصفانہ انداز میں لوڈ شیڈنگ کر رہے ہیں دیہی علاقوں، شہری علاقوں سمیت انڈسٹری سیکٹر میں بھی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے ہمارے تمام پلانٹس آپریشنل ہیں کراچی الیکٹرک اور ہیسکو لوڈ شیڈنگ کا بوجھ نہیں اٹھا رہا .دو گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کی وجہ سے کی جا رہی تھی ہم نے بجلی قیمتوں میں پچھلے دو سال سے کمی کی ہے بجلی کی ڈیمانڈ میں اضافہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے باعث ہوا ہے. وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاورسیکٹربہترین کام کر رہی ہے.