ویب ڈیسک: خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں غیر ملازمتی اخراجات میں کمی کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ کی جانب سے باقاعدہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق یہ کمی یکم اپریل سے 30 جون تک تین ماہ کے لیے نافذ العمل ہوگی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فیصلے کے تحت تمام سرکاری محکمے، نیم سرکاری ادارے اور خودمختار ادارے اپنی تنخواہوں کے علاوہ دیگر اخراجات میں بھی 20 فیصد کمی کریں گے۔
محکمہ خزانہ نے تمام پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ اس فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ اخراجات میں کمی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
واضح رہے وزیراعظم کی ہدایت پر حکومت نے کفایت شعاری اور فیول بچت کے اقدامات کے دائرہ کار کو مزید وسیع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں سرکاری اداروں، خودمختار اداروں اور سرکاری کمپنیوں کے اعلیٰ افسران کی تنخواہوں میں عارضی کٹوتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکومتِ پاکستان نے مالی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے اور غیر ضروری اخراجات میں کمی لانے کے لیے کفایت شعاری سے متعلق مزید اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں آئندہ دو ماہ کے لیے سرکاری سطح پر بیرونِ ملک دوروں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے تاکہ قومی خزانے پر بوجھ کم کیا جا سکے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق تین سے 10 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے افسران کی تنخواہ سے 5 فیصد، 10 سے 20 لاکھ روپے تنخواہ لینے والوں کی تنخواہ سے 15 فیصد، 20 سے 30 لاکھ روپے تنخواہ والے افسران کی تنخواہ سے 25 فیصد اور 30 لاکھ سے زائد تنخواہ لینے والوں کی آمدن سے 30 فیصد کٹوتی دو ماہ کے لیے نافذ رہے گی۔ کٹوتی کی رقم “وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ 2026” میں جمع کی جائے گی۔
اس کے علاوہ سرکاری اور نجی کمپنیوں کے بورڈز میں حکومتی نمائندوں کو ملنے والی بورڈ فیس بھی اسی فنڈ میں جمع کروائی جائے گی۔ 23 مارچ کو بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں میں صرف پرچم کشائی کی تقریب ہوگی اور وہاں کے نان ای آر ای بجٹ میں 20 فیصد کمی لاگو ہوگی۔