کلیم اختر:وزیراعظم کی ہدایت پر حکومت نے کفایت شعاری اور فیول بچت کے اقدامات کے دائرہ کار کو مزید وسیع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں سرکاری اداروں، خودمختار اداروں اور سرکاری کمپنیوں کے اعلیٰ افسران کی تنخواہوں میں عارضی کٹوتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکومتِ پاکستان نے مالی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے اور غیر ضروری اخراجات میں کمی لانے کے لیے کفایت شعاری سے متعلق مزید اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں آئندہ دو ماہ کے لیے سرکاری سطح پر بیرونِ ملک دوروں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے تاکہ قومی خزانے پر بوجھ کم کیا جا سکے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق تین سے 10 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے افسران کی تنخواہ سے 5 فیصد، 10 سے 20 لاکھ روپے تنخواہ لینے والوں کی تنخواہ سے 15 فیصد، 20 سے 30 لاکھ روپے تنخواہ والے افسران کی تنخواہ سے 25 فیصد اور 30 لاکھ سے زائد تنخواہ لینے والوں کی آمدن سے 30 فیصد کٹوتی دو ماہ کے لیے نافذ رہے گی۔ کٹوتی کی رقم “وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ 2026” میں جمع کی جائے گی۔
اس کے علاوہ سرکاری اور نجی کمپنیوں کے بورڈز میں حکومتی نمائندوں کو ملنے والی بورڈ فیس بھی اسی فنڈ میں جمع کروائی جائے گی۔ 23 مارچ کو بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں میں صرف پرچم کشائی کی تقریب ہوگی اور وہاں کے نان ای آر ای بجٹ میں 20 فیصد کمی لاگو ہوگی۔
حکومت نے تمام سرکاری غیر ملکی دوروں پر دو ماہ کے لیے مکمل پابندی عائد کر دی ہے جبکہ ضروری بین الاقوامی اجلاسوں میں نمائندگی متعلقہ ملک میں تعینات سفیر یا ہائی کمشنر کریں گے۔ بین الاقوامی اداروں کے مکمل فنڈڈ تربیتی پروگرام اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔
فیول اور سرکاری گاڑیوں کے استعمال کو سختی سے صرف سرکاری امور تک محدود رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حساس شخصیات کے ساتھ سکیورٹی گاڑیوں کی تعداد خطرات کے مطابق محدود رکھی جائے گی۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سول آرمڈ فورسز ورک فرام ہوم اور 4 روزہ ورک ویک سے مستثنیٰ ہیں۔ کسٹمز اور ان لینڈ ریونیو انفورسمنٹ کی گاڑیوں پر فیول کمی کی پابندی بھی لاگو نہیں ہوگی۔
تمام وفاقی اور صوبائی اداروں کو کفایت شعاری اقدامات پر عملدرآمد رپورٹ جمع کرانے اور فیول بچت و سرکاری گاڑیوں کے استعمال کی نگرانی کے لیے انٹیلی جنس بیورو کی ہدایات دی گئی ہیں۔ انٹیلی جنس بیورو ہر ہفتے وزیراعظم کو عملدرآمد کی تفصیلی رپورٹ پیش کرے گا۔ افسران کو ای آفس کے استعمال کے لیے اے پی این ڈیوائسز فراہم کی جائیں گی، اور صوبائی حکومتوں کی بچت کو بچت فنڈ میں منتقل کرنے کے لیے خصوصی سب کمیٹی قائم کی جائے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قومی وسائل کے بہتر استعمال اور مالی دباؤ کو کم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں، جبکہ کفایت شعاری مہم کے تحت مزید اقدامات پر بھی غور جاری ہے۔