قیصر کھوکھر: حکومت پنجاب نے صوبے میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے والے اداروں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اہم پیش رفت کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سول ڈیفنس اور ریسکیو 1122 کے لیے 500 ملین (50 کروڑ) روپے کی خطیر لاگت سے جدید ترین حفاظتی و امدادی آلات خرید لیے گئے ہیں، جن کی سول سیکرٹریٹ لاہور میں باقاعدہ نمائش کی گئی اور ان کا عملی مظاہرہ پیش کیا گیا۔ صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے سیکرٹری داخلہ احمد جاوید قاضی اور سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر کے ہمراہ اس نمائش کا تفصیلی معائنہ کیا۔
اس موقع پر ڈائریکٹر سول ڈیفنس تسنیم علی خان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان جدید آلات میں ایئر لفٹ ڈرون، بم ڈسپوزل روبوٹ، اینٹی ڈرون گن، الیکٹرک سائرن، بم ڈسپوزل سوٹ، بم بلینکٹ، مائن ڈیٹیکٹرز اور سنیک کیمرے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ قدرتی آفات اور حادثات میں فوری طبی امداد کے لیے آٹومیٹک لوڈنگ اسٹریچرز، اسپائن بورڈز، چپنگ ہیمرز، اینگولر گرائنڈرز اور فائر ہوزز بھی ان آلات کا حصہ ہیں۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ نیا ایئر لفٹ ڈرون مشکل اور دشوار گزار علاقوں میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور یہ 200 کلوگرام تک وزن اٹھا سکتا ہے۔
تقریب کے دوران پنجاب سول ڈیفنس اور ریسکیو 1122 کے درمیان باہمی تعاون کی ایک یادداشت پر دستخط بھی کیے گئے، جس کے تحت سول ڈیفنس نے ساڑھے 8 کروڑ (85.5 ملین) روپے سے زائد مالیت کا جدید ترین سازوسامان باضابطہ طور پر ریسکیو 1122 کے حوالے کر دیا
تقریب کے دوران صوبائی وزیر نے سول ڈیفنس کے نو منتخب بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکاروں سے خصوصی ملاقات کی اور ان کے عزم کو سراہا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ شہریوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے سول ڈیفنس اور ریسکیو سروسز ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ حکومت نے انہیں جدید ترین وسائل سے لیس کر دیا ہے کیونکہ پاکستان ہم سب کا ہے اور اس کا دفاع و تحفظ ہم سب کی اولین ذمہ داری ہے۔