ایل ڈی اے افسران کے اعزازیہ لینے کے حقائق سامنے آگئے

ایل ڈی اے افسران کے اعزازیہ لینے کے حقائق سامنے آگئے

جوہر ٹاﺅن (درنایاب)گریڈ انیس کے ڈی جی سے گریڈ بیس کے ایڈیشنل ڈی جی کی جانب سے اعزازیہ لینے کے حقائق سامنے آگئے، 2018 میں گورننگ باڈی کے اختیارات استعمال کے حوالے سے واضح فیصلہ چھپایا گیا۔

ڈی جی ایل ڈی اے گریڈ ایک سے انیس تک کے افسران کو اعزازیہ دینے کے مجاز ہیں، مفاد پرست افسران نے ڈی جی احمد عزیز تارڑ سے حقائق چھپا کرگریڈ بیس کے افسرایڈیشنل ڈی جی ہیڈ کوارٹر فارقلیط میرکا اعزازیہ منظورکرایا۔ دوہزار اٹھارہ میں خواجہ احمد حسان کی زیر صدارت گورننگ باڈی کے تیسرے اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا، جس کے مطابق گریڈ بیس کے حامل ایڈیشنل ڈی جی ہیڈ کوارٹر فارقلیط میرکامعاملہ اتھارٹی میں لے جانالازم تھا۔ ذرائع کے مطابق ایڈیشنل ڈی جی ہیڈ کوارٹرنے ماضی میں بھی سابق ڈی جی ایل ڈی اے سے خلاف قانون اعزازیہ لیا تھا۔

یادرہے کہ محکمہ فنانس نے تبدیلی سرکار کی کفایت شعاری مہم کےخلاف ایل ڈی اے کےاعزازیے کو روکنے کی ہدایت کررکھی ہے۔ 

دوسری جانب ایل ڈی اے میں مفاد پرست افسران نے کورونا وبا کی آڑ میں لاکھوں روپے اعزازیہ بٹورنے کی تیاری کرلی، سخت لاک ڈاﺅن کے دوران پبلک ڈیلنگ بندش کے باوجود دفاتر لگا کر ایک ایک ماہ کی تنخواہ بطور اعزازیہ منظور کرالی، ناجائز اعزازی تنخواہ پانے والوں میں ایڈیشنل ڈی جی ہیڈ کوارٹر فارقلیط میر سمیت افسران کی طویل فہرست میں ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن نواز گوندل، ڈائریکٹر سی اینڈ آئی عارف نیازی بھی شامل ہیں۔

پورے پنجاب کے سرکاری اداروں میں کورونا صورتحال کا فائدہ اٹھا کر اعزازیہ وصول نہیں کیا گیا، محکمہ صحت کے فرنٹ لائن ورکرز نے اعزازیہ حاصل کرنے کی کوششیں نہ کی۔ واسا اور ایل ڈبلیو ایم سی جیسی لازمی سروس کے افسران نے بھی لاک ڈاﺅن کے دوران کام کرنے کا اعزازیہ نہ لیا۔ ایل ڈی اے میں من پسند افسران کا اعزازیہ لینے پر مستحق افسران میں مایوسی پھیل گئی۔

ذرائع کے مطابق ڈی جی ایل ڈی اے لاک ڈاﺅن کے دوران اعزازیہ لینے کے معاملے کو گورننگ باڈی میں مشاورت کے لئے لے جائیں گے۔