مریم مظہر: شہر میں سوئی گیس کی بندش کے باعث گھریلو صارفین شدید مشکلات کا شکار ہیں اور شہری مہنگے داموں ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایل پی جی مافیا بے قابو ہے جبکہ سرکاری نرخنامہ محض کاغذی کارروائی تک محدود نظر آ رہا ہے۔ اوگرا کی جانب سے مقررہ قیمت 308 روپے فی کلو ہے، تاہم مارکیٹ میں ایل پی جی 560 سے 600 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کے کسی بھی علاقے میں ایل پی جی سرکاری نرخ پر دستیاب نہیں، جبکہ دکاندار روزانہ 20 سے 30 روپے فی کلو اضافہ کر دیتے ہیں۔
مہنگی ایل پی جی کے باعث شہریوں کے گھریلو بجٹ پر شدید دباؤ پڑ گیا ہے اور لوگ متبادل ایندھن استعمال کرنے پر بھی مجبور ہیں۔
شہر بھر میں من مانے نرخوں پر ایل پی جی کی فروخت جاری ہونے کے باوجود انتظامیہ کی خاموشی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی کی سرکاری قیمتوں پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور مہنگائی مافیا کے خلاف کارروائی کی جائے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل ملاہور کے علاقے ٹھوکر نیاز بیگ میں ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف سینکڑوں رکشہ ڈرائیوروں نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔
مظاہرین نے مہنگائی کے خلاف منفرد انداز اپناتے ہوئے گلے میں خشک روٹیوں کے ہار پہن کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ ایل پی جی اوگرا کے مقررہ نرخوں پر فراہم کی جائے اور مصنوعی مہنگائی کے ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔
رکشہ ڈرائیوروں کے رہنما مجید غوری نے کہا کہ اگر ایل پی جی کی قیمتوں میں فوری کمی نہ کی گئی تو 24 گھنٹوں کے اندر ڈپٹی کمشنر آفس کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عوام کو مہنگی ایل پی جی فروخت کرکے لوٹا جا رہا ہے۔