بورڈ آف ریونیو کو اہم ٹاسک مل گیا

بورڈ آف ریونیو کو اہم ٹاسک مل گیا

(عثمان علیم) سستی، نا اہلی یا اختیارات کی جنگ، شہری موضع جات کو ڈیجیٹلائزڈ کرنے کا ٹاسک پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی سے لے کر بورڈ آف ریونیو کو دے دیا گیا، ورلڈ بنک فنڈڈ پراجیکٹ پر اب بورڈ آف ریونیو عملدرآمد کروائے گا۔

 ذرائع کے مطابق پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی سے اربن موضع جات کو ڈیجیٹلائزڈ کرنے کا منصوبہ واپس لے لیا گیا ہے، پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے بجائے اب بورڈ آف ریونیو ورلڈ بنک فنڈڈ منصوبے پر عملدرآمد کروائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ منصوبے پر عملدرآمد میں سستی پر پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی سے منصوبہ واپس لیا گیا، عالمی بینک کے تعاون سے شہری موضع جات کو ڈیجیٹلائزڈ کرنے کے لیے پنجاب اربن لینڈ سسٹم انہینسمنٹ پروجیکٹ شروع کیا گیا تھا،ایک سال گزرنے کے باوجود منصوبے پر عملدرآمد نہ کروایا جاسکا، منصوبے پر عملدرآمد کیلئے ورلڈبنک اور پی ایل آر اے میں متعدد ملاقاتیں ہوئیں مگر عملدرآمد نہ ہوسکا۔

واضح رہےکہ منصوبے کے حوالے سے پی ایل آر اے اور ورلڈ بنک کے نمائندوں کے فروری 2020 میں پہلی میٹنگ ہوئی  تھی، منصوبے پر عملدرآمد کے لیے پی سی ون کی تیاری کا عمل جاری تھا مگر منصوبہ بورڈ آف ریونیو کو منتقل کر دیا گیا۔

پی ایل آر اے ذرائع کے مطابق کورونا کی وجہ سے منصوبے پر عملدرآمد میں کچھ وقت لگا، پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی منصوبے پر بہتر عملدرآمد کروا سکتی ہے کیونکہ پہلے بھی دیہی موضع جات کو ڈیجیٹلائزڈ کیا جا چکا ہے، صوبہ بھر کے شہروں کی ڈیجیٹیلائزیشن اب بورڈ آف ریونیو ورلڈ بینک کے اشتراک سے کرے گا، مرشل و گھریلو ریکارڈ اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائز کیا جائے گا.

پہلے فیز میں پائلٹ کے طور پر لاہور کے کچھ موضع جات کو کمپیوٹرائز کیا جائیگا،ورلڈ بینک نے پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کو پی ایم یو جولائی اور پی سی ون اکتوبر 2020 تک تیار کرنے کی ہدایت کی تھی، ٹائم لائن پر عملدرآمد نہ ہونے پر منصوبے کو بورڈ آف ریونیو کے سپرد کر دیا گیا ۔