ویب ڈیسک:مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پاکستان میں بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے عوامی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
اوگرا کے مطابق 12 ستمبر سے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں مزید 5 روپے کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد پیٹرول 375 روپے 82 پیسے جبکہ ڈیزل 403 روپے 32 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہورہا ہے۔ رواں ماہ اب تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں سات مرتبہ اضافہ ہوچکا ہے اور مجموعی طور پر پیٹرول و ڈیزل کی قیمتیں 30 روپے فی لیٹر سے زیادہ بڑھ چکی ہیں۔
عالمی منڈی میں بھی خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، آبنائے ہرمز کی بندش اور باب المندب کی صورتحال کے باعث عالمی تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کرچکی ہے۔
پیٹرول پر حکومت کی وصولیاں کتنی ہیں؟
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ حکومت کی جانب سے عائد ٹیکسز اور پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی بھی اہم موضوع بن گئے ہیں۔ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق حکومت فی لیٹر پیٹرول پر تقریباً 80 روپے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی وصول کررہی ہے، جبکہ اس کے علاوہ کلائیمیٹ لیوی اور کسٹم ڈیوٹی بھی عائد ہے۔
پیٹرول کی حتمی قیمت میں کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجن بھی شامل ہوتے ہیں، جس کے باعث صارف کو فی لیٹر مزید رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی وفاقی حکومت کی آمدن کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ گزشتہ مالی سال حکومت نے پی ڈی ایل کی مد میں تقریباً 1566 ارب روپے حاصل کیے جبکہ رواں مالی سال کے لیے 1576 ارب روپے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
کیا پیٹرولیم لیوی میں کمی ممکن ہے؟
معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کے پاس پیٹرولیم لیوی کم کرکے عوام کو محدود ریلیف دینے کی گنجائش ہوسکتی ہے، تاہم اس کا انحصار ملکی مالی حالات اور آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط پر ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں غیر ضروری ٹیکسز اور ڈیوٹیز کم کرنے کے ساتھ حکومت کو ٹیکس نیٹ وسیع کرنا چاہیے۔ پراپرٹی، ریٹیل اور سروسز سیکٹر سے زیادہ محصولات حاصل کرکے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد مالی بوجھ کسی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ صورتحال میں کمزور اور متاثرہ طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے 130 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے، تاہم پیٹرولیم لیوی میں ردوبدل کا فیصلہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں، ملکی مالی گنجائش اور آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
پیٹرول کی قیمتوں پر احتجاج میں بھی تیزی
پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل بڑھتی قیمتوں کے خلاف جماعت اسلامی کی جانب سے بھی احتجاج کیا جارہا ہے۔ جماعت اسلامی کے مطابق مختلف شہروں میں دھرنے جاری ہیں اور حکومت سے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
حکومت کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد جماعت اسلامی نے 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
دوسری جانب عالمی توانائی بحران کی صورتحال پاکستان کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بنی ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید برقرار رہتی ہے اور عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو درآمدی ایندھن پر زیادہ انحصار کرنے والے پاکستان پر اضافی معاشی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق فوری طور پر عوام کو پیٹرولیم قیمتوں میں ریلیف دینے کے اقدامات کے ساتھ طویل مدت میں درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا ہوگا اور متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا ہوگا۔