سٹی42: مسلم لیگ نون اور جمعیت علما اسلام نےآج خیبر پختونخوا اسمبلی میں "نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب" کوغیرآئینی قراردے دیا۔ دونوں جماعتیں عدالت سے رجوع کریں گی۔
مسلم لیگ ن اور جے یو آئی نےایک منتخب وزیراعلیٰ کی موجودگی میں خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی میں نئے "وزیراعلیٰ کے انتخاب" غیر آئینی قرار دینے کے ساتھ اس غیر آئینی عمل کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔
مسلم لیگ ن کے رہنماؤں اور جمعیت علما اسلام کے رہنماؤں کا اہم اجلاس آج اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ہوا۔ اس ملاقات میں وفاقی وزرا ، اعظم نذیر تارڑ امیرمقام،احسن اقبال کے ساتھ جے یو آئی کی جانب سے مولانا لطف الرحمان، راشد سومرو، ایم پی اے سجاد خان اور آفتاب شاہ شریک تھے۔
ملاقات میں خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں آج ہونے والا "وزیراعلیٰ کا نام نہاد انتخاب" غیرآئینی عمل ہے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کی دو بڑی جماعتوں کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا کی اپوزیشن وزیراعلیٰ کے انتخاب کے عمل کو مسترد کرتی ہے۔ اس حوالے سے وکلا پینل کے ذریعے عدالت کو درخواست دی جائےگی۔
آج پشاور میں سپیکر نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں ایک وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں نئے وزیراعلیٰ کا نام نہاد انتخاب کروایا تو ایوان مین موجود اپوزيشن نے شدید احتجاج کیا اور اس اجلاس کو ہی غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔
خیبر پختونخوا کے اپوزيشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ نےکہاکہ علی امین کا استعفیٰ منظور نہیں ہوا۔ ایک وزیراعلیٰ کے ہوتے ہوئے دوسرے وزیراعلیٰ کا کا انتخاب نہیں ہوسکتا۔ یہ عمل غیر قانونی ہے۔ہم اس کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ اگر آپ کے پاس نمبر پورے ہیں تو آپ کو جلدی کس بات کی ہے۔
سپیکر نے اپوزیشن کا احتجاج رد کردیا اور خود ساختہ طریقہ کار اختیار کر کے بانی کے نامزد کردہ سہیل آفریدی کو "نیا وزیراعلیٰ" ڈیکلئیر کر دیا۔
سپیکر نے دعویٰ کیا کہ علی امین نے جو استعفیٰ دیا ہے وہ از خود منظور ہوتا ہے۔
قانونی پوزیشن یہ ہے کہ گورنر نے استعفے پر اعتراض کر کے اسے وزیراعلیٰ علی امین کو واپس بھیج دیا ہے۔