ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مینوئل اسلحہ لائسنس کی کمپیوٹرائزیشن بارےپنجاب حکومت کا فیصلہ

مینوئل اسلحہ لائسنس کی کمپیوٹرائزیشن بارےپنجاب حکومت کا فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  پنجاب حکومت نے مینوئل اسلحہ لائسنس کی کمپیوٹرائزیشن سے متعلق نیا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے پرانے مینوئل اسلحہ لائسنس کی توثیق اور کمپیوٹرائزیشن کا عمل فی الحال روک دیا ہے، جبکہ لائسنس رکھنے والے شہریوں اور اداروں کو کمپیوٹرائزیشن کے لیے آخری موقع فراہم کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق انفرادی، ادارہ جاتی اور سیکیورٹی کمپنیوں کے اسلحہ لائسنسز کی ری ویلیڈیشن اور کمپیوٹرائزیشن کا عمل عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ نے لائسنس کے حوالے سے نیا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے تمام سابقہ احکامات کالعدم قرار دے دیے ہیں۔

محکمہ داخلہ نے مارچ تا نومبر 2025 کے دوران کمپیوٹرائز کیے گئے لائسنسوں کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ اس سلسلے میں ڈویژنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور ایڈیشنل سیکرٹری جوڈیشل سے رپورٹیں مانگی گئی ہیں۔

مزید برآں، غیر قانونی اسلحہ جمع کرانے اور ڈی ویپنائزیشن مہم کے حوالے سے بھی تفصیلی رپورٹیں طلب کی گئی ہیں، جنہیں 13 نومبر کی شام تک جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ محکمہ داخلہ نے 2016 میں مینوئل اسلحہ لائسنسوں کی کمپیوٹرائزیشن کا عمل شروع کیا تھا، جس کی آخری تاریخ 31 دسمبر 2020 مقرر کی گئی تھی۔ مقررہ تاریخ تک کمپیوٹرائز نہ کیے جانے والے مینوئل اسلحہ لائسنس منسوخ کر دیے گئے تھے۔

محکمہ داخلہ نے تمام ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے نام نیا مراسلہ جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ کمپیوٹرائزیشن، غیر قانونی اسلحہ اور ڈی ویپنائزیشن کے حوالے سے مفصل اور تازہ رپورٹیں جمع کروائیں۔