ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ماحولیاتی وسائل کو ہتھیار بنانا خطرناک رجحان، بھارتی اقدامات کے جواب میں پاکستان کا رد عمل یقینی ہوگا؛ بلاول بھٹو

ماحولیاتی وسائل کو ہتھیار بنانا خطرناک رجحان، بھارتی اقدامات کے جواب میں پاکستان کا رد عمل یقینی ہوگا؛ بلاول بھٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 : پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پاکستان ماحولیاتی بحران کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے ، پانی جیسے حساس وسائل کا بطور ہتھیار استعمال کرنا خطرناک رجحان ہے، بھارتی اقدامات کے جواب میں پاکستان کا رد عمل یقینی ہوگا ، عالمی برادری سے مطالبہ ہے خطے میں جنگ فوری روکی جائے۔  

ان خیالات کا اظہار سربراہ پارلیمانی وفد بلاول بھٹو نے یورپی تھنک ٹینک کو دی جانے والی بریفنگ میں کیا، کہا کہ پاکستان نے پہلگام واقعے پر خود مختار آزادانہ تحقیقات کروانے کی پیش کش کی ، بھارت نے پاکستانی پیش کش کے جواب میں بلا اشتعال جارحیت کی، بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو غیر قانونی طور پر معطل کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی وزارت خارجہ حکام سے ملاقات میں خطے میں امن پر زور دیا، ایران پر اسرائیل کے حملے کی شدید مذمت کی ۔ 

بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان نے جارحانہ اقدامات کے بجائے تحمل سے کام لیا، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا غیرقانونی ہے، سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے کا امن خراب کرنے کے مترادف ہے، سندھ طاس جیسے معاہدے کمزور ہوئے تو علاقائی امن کو خطرہ ہوگا، ماحولیاتی وسائل کو ہتھیار بنانا خطرناک ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پانی روکا تو پاکستان جوابی عملی اقدامات پر مجبور ہوگا، بھارتی اقدامات کے جواب میں پاکستان کا رد عمل یقینی ہوگا۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بھارت کے مسائل کا حل جامع مذاکرات سے ہی ممکن ہے، مسلہ کشمیر کا واحد حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل ہے ، بھارت ڈھٹائی سے مقبوضہ کشمیر کو اندرونی مسلہ قراردیتا چلا آرہا ہے، اقوام متحدہ کی قراردادیں ثبوت ہیں کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا اندرونی مسلہ نہیں ہے، مسلہ کشمیر سے نظریں چرانے کی وجہ سے دہشت گردی کو تقویت ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا مسلہ بنیادی ہے اسے حل کئے بغیر معاملات ٹھیک نہیں ہوسکتے ۔ 

بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی اسپانسر کررہا ہے، ٹھوس شواہد ہیں بھارتی پراکسیز بلوچستان میں دہشت گردی کررہی ہیں، دنیا کے کسی بھی ملک مقابلے میں روان سال پاکستان میں سب سے زیادہ دہشت گردی کے حملے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے بھی دو روز پہلے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار کو سراہا، پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کاروائیوں سے دہشت گرد دوسرے ملکوں میں حملے نہیں کرسکے۔