سٹی42: ایبٹ آباد میں ڈاکٹر وردہ کےپوسٹ مارٹم کی رپورٹ کچھ اور ہے لیکن خیبر پختونخوا پولیس کے ڈسٹرکٹ پولیس چیف کچھ اور بتاتے رہے۔ اس غلط بیانی کی کوئی وجہ سامنے نہین لائی گئی۔
ایبٹ آباد کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر ہارون الرشید نے ڈاکٹر وردہ کے قتل پر سوشل میڈیا احتجاج کے بعد جب پولیس کو اس کیس میں کچھ کرنے کا دباؤ تھا تو ایک پریس کانفرنس کی اور ڈاکتر وردہ کو اغوا کرنے کے ڈیڑھ ہی گھنٹے بعد قتل کر دیئے جانے کا دعویٰ کیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ڈاکتر وردہ کی موت کا جو وقت متعین کیا گیا اس سے تصدیق ہوئی کہ اغوا کرنے والوں نے ان کو ڈیڑھ دن تک زندہ رکھا، اس کے بعد مارا۔
اب یہ پتہ نہیں چل رہا کہ آخر ایبٹ آباد کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈی پی او ہارون الرشید نے پریس کانفرنس میں مقتول لیڈی ڈاکتر وردہ کو ہسپتال سے اغوا کرنے کے صرف ڈیڑھ گھنٹے بعد قتل کئے جانے کا دعویٰ کیوں کیا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر وردہ کی موت اغوا کئے جانے کے کم از کم 28 گھنٹے بعد ہوئی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتولہ کی موت پوسٹ مارٹم کے وقت سے 72 گھنٹے قبل ہوئی۔ مقتولہ کے اغوا سے لاش برآمد ہونے تک تقریباً 100 گھنٹے وقت گزرا ۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتولہ کو اغوا کرنے کے فوراً بعد نہین بلکہ ڈیڑھ دن بعد دوسرے دن قتل کیا گیا۔
مقتولہ وردہ اغواہ کے بعد 28 گھنٹے زندہ رہیں۔ اس دوران پولیس ڈاکٹروردہ کے اغوا کے متعلق ان کے گھر والوں کی شکایت پر کارروائی کرتی تو ڈاکٹر وردہ کو زندہ بچایا جا سکتا تھا کیونکہ وردہ کے والد نے شکایت میں اغوا کرنے میں ملوث ملزمہ کی واضح نشان دہی کی تھی۔ بعد میں اسی عورت کے گھر پر ڈاکٹر وردہ کو قید رکھے جانے اور وہین قتل کئے جانے کی تصدیق ہوئی۔ وہیں سے لاش برآمد ہوئی۔
پولیس سربراہ کی پریس کانفرنس کے مطابق ڈاکٹر وردہ کو اغواہ کے ڈیڈھ گھنٹہ بعد قتل کیا گیا
ڈاکٹر وردا کو ایک مقامی خاتون ردا نے 4 دسمبر 2025 کو بینظیر شہید ڈسٹرکٹ ہسپتال، ایبٹ آباد سے اغوا کیا، ردا ڈاکٹر وردہ کو اپنے زیر تعمیر گھر لے گئی ، جہاں شمرائز، ندیم اور اورنگ زیب انتظار کر رہے تھے۔بعد میں ڈاکٹر وردہ کے ساتھ کیا کچھ ہوا ، یہ اب تک سامنے نہیں آیا، کوینکہ پولیس کے سربراہ نے تو انہیں اغوا کے کچھ ہی دیر بعد مرا ہوا ڈیکلئیر کر دیا تھا۔
صرف ملزموں کے اعترافات سے یہ سامنے آیا کہ ردا کے ساتھیوں ندیم، پرویز اور شمرائز نے انہیں قتل کر دیا۔
ایبٹ آباد پولیس کے ڈی پی او کو شکایات کی بنا پر جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم سے الگ کیا جا چکا ہے۔