ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

زیرِ زمین پانی کی جنگ اور لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ

ملک اشرف

زیرِ زمین پانی کی جنگ اور لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

لاہور ہائیکورٹ کا ماحولیات اور زیرِ زمین پانی کے تحفظ سے متعلق آٹھ سالہ مفادِ عامہ کے مقدمے کا 288 صفحات پر مشتمل فیصلہ محض ایک عدالتی حکم نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک ماحولیاتی منشور کی حیثیت رکھتا ہے،یہ فیصلہ اس بنیادی سوال کا جواب تلاش کرتا ہے کہ اگر آج ہم نے پانی، زمین، درختوں، نہروں اور بارش کے قدرتی نظام کو محفوظ نہ کیا تو آنے والی نسلوں کے لیے ہمارے پاس کیا بچے گا؟
شہری ہارون فاروق کی جانب سے 2018 میں دائر کی گئی درخواست سے شروع ہونے والا یہ مقدمہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران لاہور ہائیکورٹ کی مسلسل نگرانی میں ایک وسیع ماحولیاتی تحریک کی شکل اختیار کر گیا،جسٹس شاہد کریم نے اس کیس کی سماعت کے دوران ماحولیات، آلودگی، شجرکاری، زیرِ زمین پانی، بارش کے پانی، ٹریفک اور شہری منصوبہ بندی سمیت متعدد ایسے معاملات کو عدالتی نگرانی میں لیا جنہیں عمومی طور پر محض انتظامی امور سمجھا جاتا تھا،اس فیصلے کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ عدالت نے پانی کو محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ ایک قومی اور اجتماعی ذمہ داری کے طور پر دیکھا ہے۔
لاہور کا زیرِ زمین پانی، ایک خاموش بحران
کچھ عرصہ پہلے تک لاہور میں زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی تھی۔ آبادی میں اضافہ، بے ہنگم تعمیرات، سروس اسٹیشنز، صنعتی استعمال، پارکس اور گولف کورسز کی آبپاشی اور بارش کے پانی کو زمین میں جذب ہونے کے مواقع کم ہونے کی وجہ سے شہر کے آبی ذخائر شدید دباؤ کا شکار تھے،پانی کا یہ بحران کسی ایک دن پیدا نہیں ہوا۔ یہ برسوں کی غفلت، ناقص منصوبہ بندی اور پانی کو لامحدود وسیلہ سمجھنے کا نتیجہ تھا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق گزشتہ پانچ برس کے دوران ہائیکورٹ کی مسلسل نگرانی اور مختلف احکامات پر عمل درآمد کے نتیجے میں لاہور میں زیرِ زمین پانی کی سطح مستحکم ہوئی ہے اور پانی کی مزید کمی کا عمل رک گیا ہے۔
اگر یہ پیش رفت برقرار رہتی ہے تو اسے لاہور کی تاریخ میں ایک غیر معمولی ماحولیاتی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔
سروس اسٹیشنز میں پانی کی بچت
لاہور کے 563 سروس اسٹیشنز پر واٹر ری سائیکلنگ پلانٹس کا فعال ہونا اس مقدمے کے عملی اثرات کی ایک نمایاں مثال ہے۔
ایک گاڑی کی صفائی میں سینکڑوں لیٹر صاف پانی استعمال ہونا معمول کی بات بن چکی تھی۔ اب ری سائیکلنگ کے نظام کے ذریعے فی گاڑی تقریباً 280 لیٹر صاف پانی کی بچت ہو رہی ہے۔
یہ بظاہر ایک چھوٹا اقدام معلوم ہوتا ہے، لیکن لاکھوں گاڑیوں والے شہر میں اس کے مجموعی اثرات کا اندازہ لگایا جائے تو یہ پانی کے تحفظ کی ایک بڑی مہم بن جاتی ہے۔
اصل سبق یہ ہے کہ پانی بچانے کے لیے ہمیشہ بڑے ڈیم یا بڑے منصوبے ضروری نہیں ہوتے۔ بعض اوقات ایک چھوٹے سے سروس اسٹیشن میں نصب ری سائیکلنگ پلانٹ بھی اجتماعی سطح پر بڑا فرق پیدا کر سکتا ہے۔
بڑے گھروں کے لیے گرے واٹر ری سائیکلنگ
10 مرلہ اور ایک کنال سے بڑے گھروں کے لیے گرے واٹر ری سائیکلنگ پلانٹ کی تنصیب کو لازمی قرار دینا بھی مستقبل کی شہری منصوبہ بندی کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
گھروں میں نہانے، کپڑے دھونے اور دیگر مقاصد سے استعمال ہونے والا پانی اگر مناسب طریقے سے صاف کرکے دوبارہ استعمال کیا جائے تو پینے کے قابل صاف پانی پر دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔
یہاں اصل ضرورت قانون بنانے سے زیادہ قانون پر مستقل عمل درآمد کی ہے۔ اگر نئے گھروں کے نقشے منظور کرتے وقت ماحولیاتی تقاضوں کو نظر انداز نہ کیا جائے تو لاہور کے شہری ڈھانچے کو مستقبل کے پانی کے بحران سے بڑی حد تک محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
گولف کورسز اور زیرِ زمین پانی
گولف کورسز کی آبپاشی کے لیے زیرِ زمین پانی کے استعمال پر پابندی ایک اہم پالیسی تبدیلی ہے۔
روئل پام اور لاہور جمخانہ سمیت اہم کلبز کے حوالے سے یہ پابندی اس اصول کو تقویت دیتی ہے کہ زیرِ زمین پانی کسی ایک طبقے یا ادارے کی ملکیت نہیں بلکہ پورے شہر کا مشترکہ قدرتی اثاثہ ہے۔
اگر عام شہری سے پانی کے استعمال میں احتیاط کی توقع کی جاتی ہے تو بڑے اداروں، کلبز اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی وہی اصول لاگو ہونا چاہیے۔
وضو کا پانی، ضائع ہونے کے بجائے دوبارہ استعمال
مساجد میں وضو کے پانی کی ری سائیکلنگ کا منصوبہ شاید اس فیصلے کا سب سے خوبصورت اور قابلِ تقلید پہلو ہے۔
پنجاب کی 194 مساجد میں وضو کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے ری سائیکلنگ ٹینکس فعال کیے گئے ہیں۔ داتا دربار کے منصوبے سے روزانہ 60 سے 70 ہزار گیلن پانی پارکس کی آبپاشی کے لیے محفوظ کیا جا رہا ہے۔
یہ اقدام ہمیں بتاتا ہے کہ ماحولیات کا تحفظ صرف حکومت، عدالت یا ماہرین کی ذمہ داری نہیں۔ مذہبی، سماجی اور شہری ادارے بھی پانی کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
35 سال بعد نہری کھالوں کی بحالی
لاہور کے 35 سال سے بند 19 نہری کھالوں کی بحالی ایک اور تاریخی پیش رفت ہے۔
گورنر ہاؤس، ایچیسن کالج، باغ جناح، ماڈل ٹاؤن اور ریس کورس پارکس کو نہری پانی کی فراہمی سے زیرِ زمین پانی پر دباؤ کم ہوگا۔
لاہور کبھی نہروں اور آبپاشی کے قدرتی نظام سے جڑا ہوا شہر تھا۔ شہری پھیلاؤ اور تعمیرات نے اس نظام کو بتدریج کمزور کر دیا۔ ان کھالوں کی بحالی دراصل شہر کے پرانے آبی نظام کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش ہے۔
پانی کی قیمت اور ’’صارف ادا کرے‘‘
زیرِ زمین پانی کے تجارتی استعمال پر ’’ایکویفر چارجز‘‘ کی مد میں 2018 سے اب تک 3.35 ارب روپے سے زائد وصولی اس فیصلے کا ایک اور اہم پہلو ہے۔
یہ تصور بنیادی طور پر یہ پیغام دیتا ہے کہ قدرتی وسائل کا تجارتی استعمال مفت نہیں ہونا چاہیے۔
اگر کوئی ادارہ زیرِ زمین پانی سے معاشی فائدہ حاصل کرتا ہے تو اسے اس قدرتی اثاثے کے استعمال کی قیمت بھی ادا کرنی چاہیے۔ اس سے نہ صرف پانی کے غیر ضروری استعمال کی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ حاصل ہونے والی رقم پانی کے تحفظ، ری چارج اور ماحولیاتی منصوبوں پر خرچ کی جا سکتی ہے۔
بارش کا پانی، سیلاب نہیں زندگی کا ذریعہ
لاہور میں ہر مون سون کے دوران ایک طرف سڑکیں زیرِ آب آتی ہیں اور دوسری طرف زیرِ زمین پانی کی سطح کم ہونے کی شکایات سامنے آتی ہیں۔ بظاہر یہ ایک تضاد ہے، لیکن حقیقت میں یہ ہمارے شہری منصوبہ بندی کے بحران کی علامت ہے۔
بارش کا پانی اگر زمین میں جذب ہونے کے بجائے فوری طور پر نالوں اور دریاؤں میں بہہ جائے تو ایک طرف شہری سیلاب پیدا ہوتا ہے اور دوسری طرف زیرِ زمین پانی کے قدرتی ذخائر دوبارہ نہیں بھر پاتے۔
اسی لیے بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، اسے زمین میں جذب کرانے اور فلڈ مینجمنٹ کے منصوبے لاہور کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
یہ فیصلہ صرف لاہور کے لیے نہیں
اس فیصلے کو لاہور تک محدود کرکے دیکھنا درست نہیں ہوگا۔
پاکستان کے بڑے شہروں میں زیرِ زمین پانی کے ذخائر مسلسل دباؤ میں ہیں۔ کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان اور دیگر شہروں میں بھی آبادی، تعمیرات اور پانی کی بڑھتی ہوئی طلب نے مستقبل کے لیے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ دوسرے شہروں کے لیے بھی ایک ماڈل بن سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ صوبائی اور وفاقی ادارے اسے صرف ایک عدالتی فیصلے کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ ایک طویل المدتی ماحولیاتی پالیسی کے طور پر اپنائیں۔
عدالت نے راستہ دکھا دیا، اب ذمہ داری حکومت کی ہے
عدالت نے اپنے دائرۂ اختیار میں رہتے ہوئے انتظامیہ کو سمت دکھائی، نگرانی کی اور کئی اہم اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی کوشش کی۔
لیکن عدالت ہمیشہ انتظامیہ کا متبادل نہیں بن سکتی۔
اب اصل امتحان حکومت، مقامی اداروں، واسا، ماحولیاتی اداروں، ڈویلپمنٹ اتھارٹیز، بلدیاتی اداروں اور شہریوں کا ہے کہ وہ ان اقدامات کو مستقل نظام کا حصہ بناتے ہیں یا نہیں۔
اگر ہر حکومت کے ساتھ ماحولیاتی ترجیحات بدلتی رہیں تو برسوں کی محنت ضائع ہو سکتی ہے۔
پانی کے بحران کی اصل جنگ ابھی باقی ہے
یہ کہنا کہ زیرِ زمین پانی کی سطح مستحکم ہو گئی ہے، خوش آئند خبر ضرور ہے، لیکن اسے منزل نہیں سمجھنا چاہیے۔
آبادی بڑھ رہی ہے، نئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں بن رہی ہیں، بلند عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں اور پانی کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اس لیے اگلا مرحلہ صرف پانی کی سطح کو مستحکم رکھنا نہیں بلکہ زیرِ زمین پانی کے ذخائر میں اضافہ کرنا ہونا چاہیے۔
ہر نئی عمارت میں بارش کے پانی کے ذخیرے اور ری چارج کا نظام، ہر بڑے تجارتی منصوبے میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ، صنعتی پانی کی نگرانی، نہروں اور کھالوں کی مستقل بحالی اور پانی کے ضیاع کے خلاف مؤثر نظام اب اختیاری نہیں رہنے چاہییں۔
آخری سوال
اس پورے مقدمے کا سب سے اہم پہلو شاید کوئی عدد، کوئی منصوبہ یا کوئی حکم نہیں بلکہ ایک بنیادی سوال ہے:
ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کیسا لاہور چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں؟
ایک ایسا لاہور جہاں پانی ٹینکروں سے خریدنا پڑے، جہاں زیرِ زمین ذخائر ختم ہو جائیں، جہاں ہر بارش شہری سیلاب بن جائے اور جہاں سبزہ پانی کی کمی سے ختم ہوتا جائے؟
یا ایسا لاہور جہاں بارش کا ہر قطرہ محفوظ ہو، استعمال شدہ پانی دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جائے، نہری نظام بحال ہو، زیرِ زمین پانی کے ذخائر محفوظ ہوں اور شہری ترقی ماحول کے ساتھ ہم آہنگ ہو؟
جسٹس شاہد کریم کا یہ 288 صفحات پر مشتمل فیصلہ اسی دوسرے لاہور کی طرف ایک راستہ دکھاتا ہے۔
عدالت نے اپنا کردار ادا کر دیا ہے۔ اب فیصلہ حکومتوں، اداروں اور شہریوں نے کرنا ہے کہ وہ اس راستے پر کتنی سنجیدگی سے چلتے ہیں۔
کیونکہ پانی کا بحران آنے والے کل کا مسئلہ نہیں، آج کا فیصلہ ہے۔
اور شاید اس تاریخی مقدمے کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ اگر عدالت، انتظامیہ اور معاشرہ ایک مقصد پر متحد ہو جائیں تو ایک شہر کے ماحولیاتی مستقبل کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

نوٹ: بلاگرکی ذاتی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔