سٹی 42 : سندھ حکومت نے یکم جنوری 2027 سے ریٹائر ہونے والے ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے روز ہی پنشن کی ادائیگی کا فیصلہ کرلیا ۔
چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں پنشن اور میڈیکل ری ایمبرسمنٹ سے متعلق غور کیا گیا۔ اجلاس میں اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری سروسز، سیکریٹری صحت، سیکریٹری جنرل ایڈمنسٹریشن نے شرکت کی ۔
یکم جنوری 2027 سے ریٹائر ہونے والے ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے روز ہی پنشن کی ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ۔
چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے کہا کہ سرکاری ملازم کو ملازمت کے آخری روز پنشن اور بنیادی مالی واجبات ملنے چاہئیں، تمام صوبائی محکمے زیر التوا پنشن بل تین ماہ میں کلیئر کریں، پنشن کے حصول کیلئے ریٹائرڈ ملازمین کو دفاتر کے چکر نہیں لگانے چاہئیں، پنشن کی بروقت ادائیگی کیلئے مربوط نظام تشکیل دیا جائے ۔
سیکریٹری سروسز کی سربراہی میں بین المحکماتی ٹاسک فورس قائم کرنے کی ہدایت کی گئی۔ ٹاسک فورس میں اے جی سندھ، خزانہ، صحت، جنرل ایڈمنسٹریشن اور دیگر متعلقہ محکمے شامل ہوں گے ۔
چیف سیکریٹری سندھ نے کہاکہ پنشن کی بروقت ادائیگی کیلئے ضرورت کے مطابق قواعد میں ترامیم بھی تجویز کی جائیں، پنشن کی ادائیگی کا حتمی عملی فریم ورک ایک ہفتے میں پیش کیا جائے ۔
اجلاس میں سرکاری ملازمین کے میڈیکل ری ایمبرسمنٹ کلیمز میں تاخیر کا بھی جائزہ لیا گیا۔ نامکمل دستاویزات، ای ویری فکیشن اور این اے سی کے اجرا میں تاخیر کی نشاندہی کی گئی۔ چیف سیکریٹری سندھ نے کہاکہ میڈیکل کلیمز میں تاخیر پالیسی یا فنڈز نہیں بلکہ انتظامی رکاوٹوں کا مسئلہ ہے ، میڈیکل ری ایمبرسمنٹ میں غیر ضروری کاغذی کارروائی ختم کی جائے ۔
سیکریٹری جنرل ایڈمنسٹریشن کو میڈیکل ری ایمبرسمنٹ کے طریقہ کار کا مشترکہ جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ۔
چیف سیکریٹری سندھ نے کہا کہ اے جی سندھ، خزانہ، سروسز اور دیگر محکمے میڈیکل کلیمز کا طریقہ کار آسان بنائیں، سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کیلئے میڈیکل کلیمز کا نظام آسان اور تیز بنایا جائے، ملازمین کو پنشن اور میڈیکل واجبات کیلئے غیر ضروری دفتری مشکلات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے ۔