سٹی42: خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی پیر کے روز وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے استعفے کی جانچ پڑتال کر کے اس کو منظور کرنے یا واپس بھیجنے کا تعین کریں گے۔
گورنر ہاؤس خیبر پختونخوا کے ترجمان نے بتایا کہ ہفتے کے روز دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا استعفیٰ گورنر ہاؤس کو موصول ہوا، جس کی وصولی کی باقاعدہ تصدیق کر دی گئی ہے۔
گورنر کے ترجمان کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ آئینِ پاکستان اور متعلقہ قوانین کے تحت استعفے کی جانچ پڑتال اور قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد، وزیراعلیٰ کے استعفیٰ پر آئینی طریقۂ کار کے مطابق عمل کیا جائے گا۔
گورنر کے مطابق گورنر ہاؤس تمام آئینی اور قانونی تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے معاملے کو شفاف اور منظم انداز میں آگے بڑھائے گا۔
وزیراعلیٰ کے استعفے کی وصولی کے بعد گورنر ہاؤس میں ابتدائی قانونی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں، تاہم گورنر فیصل کریم کنڈی نے معاملے پر حتمی آئینی رائے پیر کے روز حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ہفتہ وار تعطیل کے باعث گورنر ہاؤس کے قانونی ماہرین اتوار کو دستیاب نہیں ہوں گے۔ لہٰذا کل پیر کے روز دفتری اوقات کے آغاز کے ساتھ ہی گورنر اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت کریں گے۔
اس مشاورت میں وزیراعلیٰ کے استعفے سے متعلق آئینی تقاضوں، ممکنہ پیچیدگیوں اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق گورنر فیصل کریم کنڈی کسی فیصلے سے قبل مکمل قانونی رائے اور متعلقہ دستاویزات کا خود جائزہ لیں گے تاکہ آئینی تقاضے پوری طرح پورے کیے جا سکیں۔
اس دوران گورنر خیبر پختو نخوا فیصل کریم کنڈی نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ علی امین کا استعفیٰ موصول ہوگیا ہے اورپیر کو دفتر کھلنے پراس پر فیصلہ کروں گا۔ استعفیٰ ملنے کی رسید بھی دے چکا ہوں، استعفیٰ علی امین کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے اور قانونی ٹیم جائزہ لے رہی ہے۔ استعفیٰ منظور کیے جانے تک علی امین وزیراعلیٰ رہیں گے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی جن کا تعلق ڈیرہ اسمعیل خان سے ہے، وہ اتوار کی چھٹی اپنے آبائی علاقہ میں گزاریں گے لیکن نہوں نے واضح کیا کہ ڈیرہ اسمعیل خان مین ان کا علی امین سے ملاقات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔
ذرائع نے انکشاف کیا کہ علی امین نے آٹھ اکتوبر کو تحریری ٹائپ شدہ استعفیٰ ارسال کرنے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن وہ گورنر تک نہیں پہنچا تھا۔