سٹی42: سوشل میڈیا پر منفی شہرت ملنے کے بعد مولانا طارق جمیل کے بیٹے نے باپ کے دفاع میں بول کر نئے تنازعات کھڑے کر دیئے، مولانا طارق جمیل کے بیٹے نے انکشاف کیا کہ مولانا طارق جمیل تو اب "خواہِش کی عمر" میں رہے ہی نہیں۔ طارق جمیل کے بیٹے نے یہ انکشاف طارق جمیل کے ڈاکٹر نبیہا کے نکاح کے دوران نا محرم ڈاکتڑ نیبہا کے ساتھ بیٹھنے پر عوام کی تنقید کے جواب میں کیا۔
ڈاکٹر نیبہا کی دوسری شادی کے نکاح کی تقریب مولانا طارق جمیل کے گھر پر ہوئی تھی اور اس دوران مولانا طارق جمیل کو ڈاکٹر نبیہہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ اس نکاح کے موقع پر ڈاکٹر نبیہہ اور ان کے شوہر نے اپنے شادی کے جوڑے، زیور کی قیمت کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا اور گانے وغیرہ بھی گائے گئے جس کے سبب سوشل میڈیا پر ڈاکٹر نبیہہ پر تو مسلسل تنقید ہو ہی رہی ہے، ان کے ساتھ بیٹھنے پر مولانا طارق جمیل بھی تنقید کی زد میں آئے ہوئے ہیں۔
مولانا طارق جمیل کے بیٹے یوسف جمیل نے ڈاکٹر نبیہا علی کا نکاح پڑھانے کے بعد سوشل میڈیا پر والد پر ہونے والی تنقید سے متعلق خاموشی توڑ دی۔
اپنے ویڈیو بیان میں مولانا یوسف جمیل نے کہا کہ مولانا طارق جمیل نے حال ہی میں ایک ڈاکٹر صاحبہ (ڈاکٹر نبیہا علی) کا نکاح پڑھایا، جس کے بعد اُن پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا طارق جمیل اس خاتون کو جانتے تک نہیں تھے۔ مولانا کے ایک دوست نے نکاح پڑھانے کی درخواست کی تھی، جس پر انہوں نے انکار نہیں کیا، کیونکہ وہ اپنی زندگی میں ہزاروں نکاح پڑھا چکے ہیں اور جو بھی نکاح پڑھوانے کی درخواست لے کر آتا ہے، وہ اسے رد نہیں کرتے۔
یوسف جمیل نے کہا کہ مولانا کی ذات اور زندگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، ان کی دینی خدمات طویل عرصے پر محیط ہیں۔ ایک ایسا شخص جو دین کی خدمت کے باعث عوامی ہو، اُسے اخلاقی طور پر بہت سی باتوں کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی غلطی ہو تو تنقید ضرور ہونی چاہیے مگر اس معاملے میں چند گزارشات ہیں۔ اگر پھر بھی کوئی سمجھتا ہے کہ مولانا پر تنقید ہونی چاہیے، تو ضرور کرے۔
یوسف جمیل نے بتایا کہ والد صاحب نے صحت کے مسائل اور عمر رسیدگی کے باعث اب بہت کم نکاح پڑھانے شروع کر دیے ہیں، تاہم مکمل طور پر یہ سلسلہ ختم نہیں کیا۔ ایک انسان کا برسوں پرانا معمول بدلنا آسان نہیں، اور لوگ بھی خوشی محسوس کرتے ہیں کہ ان کا نکاح مولانا پڑھائیں۔ اس لیے وہ نہیں دیکھتے کہ کون نکاح پڑھوانے آرہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تقریباً ناممکن ہے کہ کوئی فلٹر لگا سکے کہ کس کا نکاح پڑھانا ہے اور کس کا نہیں، خاص طور پر جب کوئی عوامی شخصیت ہو۔
غیر مھرم کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہئے۔۔۔ لیکن طاق جمیل تو اب "خواہش کی عمر" میں نہیں!
یوسف جمیل نے تسلیم کیا کہ مولانا طارق جمیل کو خاتون کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہیے تھا، اور شرعاً اس کی اجازت بھی نہیں ہے لیکن یہ پہلو بھی دیکھنا چاہیے کہ مولانا 72 برس کے بزرگ ہیں، نہ وہ 30 سال کے ہیں اور نہ خواہش کی عمر میں۔ جن خواتین کا نکاح وہ پڑھاتے ہیں وہ ان کی بیٹیوں کی عمر کی ہوتی ہیں، یہ وہ بچیاں ہوتی ہیں جن کیلئے مولانا ایک بزرگ کی مانند ہیں۔
نا محرم کے ساتھ اختلاط سے اجتناب کے ضمن میں مرد یا عورت کی عمر کا کوئی ھوالہ نہیں دیا جاتا لیکن مولانا طارق جمیل کے بیٹے نے ان کی عمر کا حوالہ دے کر یہ دعویٰ کیا کہ وہ اب "خواہش کی عمر" مین نہیں رہے، اس لئے ان کے کسی غیر محرم عورت کے ساتھ بیٹھنے پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔ اس حوالے سے مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک جید مولانا نے حال ہی میں 77 سال کی عمر مین شادی کی تو اس پر اچھا خاصا ہنگامہ ہو گیا تھا۔ مولانا محمد خان شیرانی 1948 میں پیدا ہوئے، اور ان کی عمر 76 سے 77 سال کے درمیان ہے۔ اکتوبر 2025 کی حالیہ خبروں میں ان کی 92 سال کی عمر میں شادی کا ذکر کیا گیا ہے، جو ان رپورٹس میں غلط معلوم ہوتا ہے تاہم ان کی 77 سال عمر میں شادی سے مولانا طارق جمیل کے صاحبزادے کا یہ عذر متنازعہ ہو جاتا ہے کہ طارق جمیل 72 سال کی عمر میں ہیں اس لئے وہ "خواہش کی عمر" مین نہیں اور ان کے کسی غیر محرم عورت کے ساتھ بیتھنے پر اعتراض کرنا روا نہیں۔
مولانا محمد خان شیرانی 1948 میں پیدا ہوئے، اور اس وقت ان کی عمر 76 سے 77 سال کے درمیان ہے۔ اکتوبر 2025 کی حالیہ خبروں میں ان کی 92 سال کی عمر میں شادی کا ذکر کیا گیا ہے، جو ان رپورٹس میں غلط معلوم ہوتا ہے۔
یوسف جمیل نے مزید کہا کہ ڈاکٹر نبیہا نے حد سے تجاوز کیا، انہوں نے یہ خیال نہیں رکھا کہ ان کا نکاح کون پڑھا رہا ہے، اور ہماری رہائش گاہ کے تقدس کا بھی خیال نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ مولانا طارق جمیل ایک بڑے بزرگ ہیں، اور ان کے گھر آنے والوں پر لازم ہے کہ ادب و احترام کو پیش نظر رکھیں۔ نکاح کے موقع پر ویڈیوز بنائیں گئیں جن میں گانے بھی شامل تھے۔ خوشی منانے پر کوئی پابندی نہیں، لیکن یہ ضرور دیکھنا چاہیے تھا کہ یہ سب کس شخصیت کے گھر میں ہورہا ہے۔
انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ اس واقعے کے بعد مولانا پر منفی ردعمل سامنے آیا ہے، لوگ ویڈیوز اور پیغامات بھیج رہے ہیں، جس کا دباؤ مولانا کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ تنقید ضرور کریں، مگر یہ بھی دیکھیں کہ اس میں اصل ذمہ دار کون ہے، کیونکہ مولانا کو اندازہ نہیں تھا کہ خاتون ایسا رویہ اختیار کریں گی یا اس واقعے کو سوشل میڈیا پر اس طرح پیش کریں گی۔
یوسف جمیل نے آخر میں کہا کہ ایک واقعے کی بنیاد پر کسی کی پوری زندگی کی خدمات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر نبیہا نے نکاح کی تقریب کو سنجیدہ موقع کے بجائے سوشل میڈیا ایکٹیویٹی بنایا۔ مولانا کی شخصیت اور ویڈیو کا غلط استعمال ہوا حالانکہ وہ ایک نہایت نرم دل اور سادہ مزاج انسان ہیں۔ اگر انہیں ذرا بھی اندازہ ہوتا کہ یہ سب کچھ ہوگا، تو وہ ضرور منع کردیتے کہ میرے گھر میں ایسا نہ کیا جائے۔