ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب میں AI کلوننگ اور ڈیپ فیک کے خلاف تاریخی قانون سازی، بغیر اجازت چہرہ اور آواز استعمال کرنے پر سزا تجویز

پنجاب میں AI کلوننگ اور ڈیپ فیک کے خلاف تاریخی قانون سازی، بغیر اجازت چہرہ اور آواز استعمال کرنے پر سزا تجویز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

راو دلشاد: پنجاب حکومت نے مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے وائس کلوننگ، ڈیپ فیک اور ڈیجیٹل شناخت کے غیر مجاز استعمال کی روک تھام کے لیے اہم قانون سازی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے " پنجاب پرفارمرز ڈیجیٹل شناخت و مصنوعی ذہانت تحفظ ایکٹ 2026" کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔

مجوزہ قانون کے تحت کسی بھی فنکار کی آواز، چہرے یا ڈیجیٹل شناخت کو اس کی واضح، تحریری اور مخصوص اجازت کے بغیر استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ بل میں فنکاروں کی ڈیجیٹل شناخت کو قانونی طور پر محفوظ ملکیت قرار دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔

قانون کے مطابق اے آئی کے ذریعے تیار کردہ کسی بھی پرفارمنس، اشتہار یا مواد کے لیے الگ معاہدہ اور معاوضہ لازمی ہوگا، جبکہ ڈیجیٹل مواد میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا واضح ڈسکلیمر دینا بھی ضروری قرار دیا جائے گا۔

مجوزہ بل میں وائس کلوننگ، ڈیپ فیک، جعلی توثیق اور سیاسی مقاصد کے لیے اے آئی کے غلط استعمال پر سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ بغیر اجازت کسی فنکار کی ڈیجیٹل نقل استعمال کرنے پر تین سال قید اور کروڑوں روپے جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔

بل کے تحت 18 سال سے کم عمر فنکاروں کے لیے خصوصی قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا اور ان کی ڈیجیٹل شناخت کے استعمال کے لیے والدین یا سرپرست کی اجازت لازمی ہوگی۔ مزید برآں، فوت شدہ فنکاروں کی ڈیجیٹل شناخت کو 25 سال تک قانونی تحفظ حاصل رہے گا۔

مجوزہ قانون میں پنجاب میں ڈیجیٹل رائٹس رجسٹری کے قیام کی بھی تجویز دی گئی ہے، جبکہ اے آئی انڈسٹری، میڈیا ہاؤسز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے نئے قواعد و ضوابط متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ قانون فنکاروں کے حقوق کے تحفظ اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔