ویب ڈیسک:ملک کے آئندہ مالی سال کے معاشی منصوبے کی تفصیلات آج قومی اسمبلی میں پیش کی جائیں گی، جہاں وفاقی بجٹ منظوری کے مراحل میں داخل ہوگا۔ حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے بجٹ کا مجموعی حجم تقریباً 17.5 ہزار ارب سے 18 ہزار ارب روپے تک رہنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق نئے بجٹ میں بجٹ خسارے کا تخمینہ 5.3 سے 5.4 ٹریلین روپے لگایا گیا ہے، جبکہ حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1727 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ تاہم اقتصادی سروے میں سامنے آنے والی صورتحال کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران کئی معاشی اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے اور معاشی ترقی کے مقررہ منصوبے بھی مکمل طور پر کامیاب نہ ہو سکے۔
حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی تجاویز بھی بجٹ کا حصہ ہیں، جبکہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق سولر پینلز، اسٹیشنری مصنوعات اور اسٹاک مارکیٹ سے متعلق ٹیکس پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی متوقع نہیں۔ دوسری جانب درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس بڑھا کر 25 فیصد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس شرحیں برقرار رکھنے کا امکان ہے۔
آئندہ مالی سال کیلئے برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر جبکہ درآمدات کا تخمینہ 70 ارب ڈالر رکھا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دفاع اور وزارت داخلہ کے شعبوں کے علاوہ نئے ترقیاتی منصوبے شروع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
وفاقی حکومت تنخواہ دار طبقے کو تقریباً 50 ارب روپے تک ٹیکس ریلیف دینے پر غور کر رہی ہے، جس کیلئے انکم ٹیکس سلیب کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ اس کے علاوہ سپر ٹیکس میں 1 سے 2 فیصد تک کمی کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ بن سکتی ہے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا آخری مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، جس کے بعد تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔ تاہم آئی ایم ایف نے ریونیو میں کمی کو پورا کرنے کیلئے حکومت کو متبادل ذرائع سے آمدن بڑھانے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق انکم ٹیکس سلیب میں تبدیلی کے نتیجے میں ملازمین کو براہ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے، تاہم اس اقدام سے قومی خزانے کو تقریباً 50 ارب روپے تک کے ریونیو نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
نئے بجٹ میں مہنگائی کا ہدف 8.2 فیصد جبکہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کیے جانے کی توقع ہے۔ اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف اور اتحادیوں نے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ سے گریز کا اعلان کیا ہے، تاہم پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کا عندیہ دیا گیا ہے۔
وفاقی بجٹ پیش کرنے کیلئے قومی اسمبلی کا اجلاس آج سہ پہر 3 بجے طلب کیا گیا ہے، جبکہ اس سے قبل وفاقی کابینہ کا اجلاس دوپہر ڈھائی بجے ہوگا۔ وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں بجٹ تجاویز کی منظوری دی جائے گی، جس کے بعد وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کابینہ کو تفصیلی بریفنگ دیں گے۔
اقتصادی سروے کے مطابق ملک کی 28.9 فیصد آبادی غربت کی سطح پر زندگی گزار رہی ہے۔ صوبوں میں بلوچستان میں غربت کی شرح سب سے زیادہ 47 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ خیبرپختونخوا میں 35.3 فیصد، سندھ میں 32.6 فیصد اور پنجاب میں 23.3 فیصد رہی۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں لیبر فورس کی تعداد 8 کروڑ 31 لاکھ ہے، جن میں سے 7 کروڑ 72 لاکھ افراد روزگار سے وابستہ ہیں۔ سال 2025 کے دوران 7 لاکھ 62 ہزار سے زائد افراد روزگار کے حصول کیلئے بیرون ملک روانہ ہوئے۔