فاران یامین، عابد چودھری:اچھرہ کے علاقے میں چوری کے الزام پر 11 سالہ گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد کا واقعہ سامنے آنے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔
اچھرہ کے علاقے سے ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے، جس میں ایک شخص کو کم سن بچی پر پلاسٹک کے پائپ سے تشدد کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
اہلِ محلہ کے مطابق متاثرہ بچی کی شناخت فاطمہ کے نام سے ہوئی ہے، جس پر مبینہ طور پر چوری کے الزام کے بعد تشدد کیا گیا۔ مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ ویڈیو میں تشدد کرنے والا شخص بچی کا والد ہے۔
اہلِ محلہ کا مزید کہنا ہے کہ مبینہ طور پر گھر کے مالکان کے کہنے پر والد نے اپنی کم سن بیٹی کو تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ واقعے کے دوران گھر کے مالکان بھی قریب موجود تھے۔
پولیس کے مطابق 11 سالہ عروج فاطمہ شاہ جمال کے علاقے میں واقع ایک گھر میں ملازمت کرتی تھی، جہاں مبینہ طور پر چوری کے الزام پر اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر اچھرہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم قربان کو شاہ جمال سے گرفتار کر لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کے لیے کیس انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ واقعے کے دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ بچوں کا استحصال اور ان پر تشدد ناقابلِ برداشت ہے، اور ایسے جرائم میں ملوث افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
یاد رہے گزشتہ روز صوبائی دارالحکومت میں گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد کا ایک اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہتھا، جہاں نصیر آباد کے علاقے میں 12 سالہ گھریلو ملازمہ کنیز فاطمہ جاں بحق ہو گئی۔ پولیس نے بچی کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والی 12 سالہ کنیز فاطمہ کا تعلق فیصل آباد سے تھا اور وہ گزشتہ ایک ماہ سے صوفی اعجاز کے گھر گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کر رہی تھی۔
ایف آئی آر کے مطابق بچی کے والد جاوید نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جمعہ کی شام تقریباً پانچ بجے انہیں گھر کے مالکان کی بہو کی جانب سے فوری لاہور پہنچنے کے لیے کہا گیا۔ جب وہ لاہور پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ ان کی بیٹی گلاب دیوی اسپتال میں زیر علاج ہے۔
والد کے مطابق جب وہ اسپتال پہنچے تو کنیز فاطمہ مردہ حالت میں موجود تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کوٹھی مالکان نے ان کی 12 سالہ بیٹی کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا ہے۔
پولیس نے لاش کو قانونی کارروائی کے لیے مردہ خانے منتقل کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد موت کی اصل وجہ اور دیگر حقائق واضح ہوں گے، جبکہ مقدمے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔