سٹی42: کراچی کے نئے نیشنل سٹیڈیم میں سہ فریقی سیریز کے ڈو آر ڈائی میچ میں گرین شرٹس کے کیپٹن رضوان اور ساتھی بیٹر سلمان نے اوپر تلے اپنی سینچریاں مکمل کر لیں۔رضوان جو سلمان سے قدرے پیچھے تھے انہوں نے موقع ملتے ہی ے چھکا مار کر سینچری بنائی اور سلمان علی آغانے اس کے بعد سینچری مکمل کی۔ دونوں بیٹرز نے سینچری سٹروک کھیلنے کے بعد نیشنل سٹیڈیم میں سجدے کر کے خدا کا شکر ادا کیا۔ 46 اوورز کے اختتام پر پاکستان کا مجموعہ 327 ہو گیا تھا اور گرین شرٹس کو جیتنے کے لئے24 گیندوں سے 25 رنز درکار تھے، سلمان آغا مجموعہ کو 351 رنز تک لا کر سلپ میں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد طیب طاہر آئے جنہوں نے چار رنز کا وننگ سٹروک لگا کر پاکستان کو 6 وکٹوں سے جتوا دیا۔ سلمان آغا نے 134، رضوان نے 122رنز بنائے.
44 وین اوور میں رضوان سلمان نے ریان ولڈر کو 16 رنز مارے اور دو رنز وائیڈ گیندوں سے ملے۔ 18 رنز کا یہ اوور پروٹیز کے لئے اونٹ کی کوہان پر آخری تنکا ثابت ہوا۔ اب پاکستان کو جیتنے کے لئے 27 گیندوں سے 30 رنز بنانا تھے جو اعتماد کے پہاڑ پر کھڑے گرین شرٹس نے برق رفتاری سے بنا لئے۔
اس سے پہلے گزشتہ چار اوورز کے دوران رضوان اور سلمان نے ہر اوور میں دو باؤنڈریز لگا کے میچ کا پانسہ پلٹنے کا آغاز کر دیا۔ 39 اوورز میں گرین شرٹس کا مجموعہ 266 رنز ہو گیا، درکار رن ریٹ اب بھی 8.29 ہے تاہم 353 رنز کا ٹارگٹ قابلِ حصول دکھائی دینے لگا۔ 40 اوورز کے بعد رضوان 86 رنز اور سلمان93 رنز پر کھیل رہے ہیں۔ پاکستان کا مجموعہ رنز ہے۔
محسن نقوی کے بنائے ہوئے نئے نیشنل سٹیڈیم کی نئی وکٹ بیترز کے لئے اچھی وکٹ ثابت ہو رہی ہے۔

کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں ساؤتھ افریقہ کے ساتھ کروشیل میچ میں پاکستان کے بیٹرز طویل جدوجہد کے بعد 30 اوورز کے اختتام تک وکٹ پر جمتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ 30 اوورز میں گرینشرٹس نے 192 رنز بنا لئے تھے جو 32 اوورز میں بڑھ کر 203 ہو گئے۔ اور ان کی تین اہم وکٹیں گر چکی تھیں لیکن گزشتہ 20 اوورز میں وکٹ نہیں گری۔ پاکستان کو آج سیریز میں رہنے کے لئے 353 رنز بنا کر میچ جیتنا تھا۔ اس وقت سلمان آغا 54 رنز پر اور کیپٹن رضوان 62 رنز پر کھیل رہے تھے۔
پاکستان کے اوپنر فخر 41 رنز اور بابر 23 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تھے۔ انہوں نے تیز بیٹنگ سے آغاز کیا تھا تاکہ سات رنز فی اوور کے ریکوائرڈ رن ریٹ کے ٹارگٹ کو کچھ نیچے لا کر آسانی پیدا کر سکین لیکن اس دوران 11 اوورز میں تین وکٹیں گر گئیں۔ سعود شکیل 15 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
تعمیرِ نو کے بعد کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں ہونے والے پہلے میچ میں ساؤتھ افریقہ کے باؤلرز نے گیارھویں اوور مین تیسری اہم وکٹ گرا کر گرین شرٹ بیٹرز کو مشکلات میں ڈال دیا تھا۔ 352 رنز کے ٹارگٹ کو چیز کرتے ہوئے گزشتہ چار اوورز میں پاکستانی بیٹر سلمان آغا اور کیپٹن رضوان کوئی باؤنڈری نہیں کھیل سکے، آخری چوکا 13 ویں اوور مین ہوا تھا جو رضوان نے لگایا تھا، تین قیمتی وکٹیں جلدی گر جانے کے بعد دونوں بیٹرز پر وکٹ پر موجود رہنے کا دباؤ ہے۔ رن ریٹ چار اوورز میں مسلسل گرا اور درکار رن ریٹ اسی تناسب سے بڑھتے بڑھتے اب 7.23 تک پہنچ گیا۔ 19 ویں اوور کی پہلی گیند پر سلمان آغا نے چوکا لگا کر نفسیاتی بیرئیر توڑنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد دونوں بیٹرز زیادہ اعتماد کے ساتھ رنز کو آگے بڑھاتے گئے۔
اس سے پہلے پروٹیز نے اچھی اننگز کھیلی اور پچاس اوورز میں 352 رنز بنائے۔ پاکستانی باؤلر مہمان پروٹیز کر رن بنانے سے تو نہ روک سکے لیکن انہوں نے اسی سے زیادہ رنز بنا چکے تین بیٹرز کو سینچری بنانے سے بہرحال روکا۔ خوبصورت بیٹر ہینرچ کلیسن کو 87 کے خوبصورت مجموعہ پر شاہین شاہ نے سیچری کرنے سے روک کر پویلئین واپس بھیجا، شاہین شاہ کے ساتھ بلا جواز پنگا کرنے والے میتھیو بریٹز کو 83 کے ذاتی سکور پر خوشدل شاہ نے مایوسی کے اندھیرے میں دھکیلا۔ کیپٹن تیمبا بوواما 82 رنز کے انفرادی سکور پر رن آؤٹ ہوئے۔

شاہین شاہ آج پروٹیز کی دو وکٹیں لینے میں کامیاب ہوئے۔ ایک وکٹ خوشدِل اور ایک نسیم شاہ کو ملی۔