ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 ہم نیا زمانہ لائیں گی ،ہم انقلاب ہیں، خواتین کے قومی دن پر خواتین کا ولولہ انگیز نعرہ

 ہم نیا زمانہ لائیں گی ،ہم انقلاب ہیں، خواتین کے قومی دن پر خواتین کا ولولہ انگیز نعرہ
کیپشن: File Photo
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

افشاں رضوان، وسیم عظمت :  خواتین نیا زمانہ لے کر آئیں گی ،،وہ انقلاب ہیں۔۔۔۔لاہور پریس کلب کے باہر  وویمنز ایکشن فورم  اور عورت مارچ  کی کارکنوں نے پاکستانی سماج کو بدلنے کے لئے اپنی جدوجہد تیز تر کرنے اور عورت انقلاب لانے کے عزم کے ساتھ عورت کی سٹریٹ پاور کا شاندار مظاہرہ کیا۔ 

آج پاکستان مین خواتین کے قومی دن کے موقع پر کئی دوسرے شہروں کے ساتھ لاہور مین خواتین کا مرکزی اجتماع لاہور پریس کلپ کے سامنے شملہ پہاڑی کی سڑک پر ہوا جس میں سینکڑوں لڑکیوں اور ہر عمر کی عورتوں نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔  مظاہرین نے رنگ برنگے خوبصورت بینر اور پہلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر عورتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے نئے عزم کے اظہار کے ساتھ عورتوں کی تحریک کے اہم ترین مطالبات درج تھے۔  کئی گھنٹوں پر محیط سرگرمی کے دوران مارچ کی شرکا مسلسل بلند آواز سے نعرے لگاتی رہیں۔

افشاں رضوان کی رپورٹ
خواتین کے حقوق کے لیے پریس کلب کے باہر عورت مارچ اور ویمنز ایکشن فورم کے  مظاہرہ  میں خواتین کیے ساتھ  خواتین کی برابری کی  تحریک سے وابستہ مردوں نے بھی شرکت کی۔ جینڈر ایکویلیٹی کے لئے سرگرم  ٹرانس جینڈر شہری بھی اس اجتماع مین شریک ہوئے۔  مظاہرین نے خواتین کے حقوق، ماحولیاتی تبدیلی اور فلسطین میں اسرائیلی مظالم  کےبارے  میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے ۔

مختلف آرگنائزیشنز کے عہدیداران کا کہنا تھا عورت مارچ اور ویمن ایکشن فورم ،  اے ایم اور وام کے چارٹر آف ڈیمانڈ ز گذشتہ برسوں میں نظر انداز کیے گئے۔  ان مطالبات پر روشنی ڈالنے کے لیے ریاست کی توجہ صنفی بنیاد پر تشدد جیسے سنگین مسئلے کی جانب مبذول کروانا چاہتے ہیں ۔

اس اجتماع کی شرکاء کا کہنا تھا 12 فروری کا دن ْ پاکستانی خواتین کے لیے اہم ہے۔


مظاہرین نے خواتین  کی برابری کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کرنے والی خواتین کو خراج تحسین پیش کیا۔۔عورت مارچ کی سکیورٹی کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔

دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق  خواتین کے قومی دن کے موقع پرلاہور میں  روایتی مارچ لاہور پریس کلب سے شروع ہوا اور شرکا ایجرٹن روڈ سے گزرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے قریب پہنچے، جہاں خواتین کو درپیش مسائل کو   غیر پیشہ ور اداکاروں نے سٹریٹ پلے، خاکوں اور غیر پیشہ ور گلوکاروں نے  گیتوں  اور ترانوں کے ذریعے اجاگر کیا گیا۔

 مارچ کی شرکاء نے مطالبہ کیا کہ مذہبی، لسانی، صنفی اقلیتوں اور سیاسی مخالفین کو  پبلک لائف سے مٹانے کے سلسلے کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے پنجاب پروٹیکشن آف ویمن قانون کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے، کام کی جگہوں پر جنسی ہراسانی کے خلاف قائم کمیٹیوں کو مضبوط بنانے، جبری طور پر مذہب کی تبدیلی کا خاتمہ کرنے، اور مذہبی اقلیتوں سے متعلق قوانین پر عوامی مشاورت کے ساتھ نظرثانی کرنے کا مطالبہ کیا۔

شرکا نے خواجہ سرا اور صنفی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور تشدد کے خاتمے، اور افراد کو اپنی جنس کے تعین کا حق برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے آزادی اظہار پر سینسر شپ کے لیے فائر وال جیسی ٹیکنالوجی کے خاتمے، اسموگ کے مؤثر حل کے لیے پالیسی بنانے، اور زرعی اراضی کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے والے منصوبوں کو بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

گزشتہ برس کی نسبت اس سال عورت مارچ کے شرکا کی تعداد خاصی کم نظر آئی جبکہ ماضی کی طرح کے انتظامات بھی نہیں کیے گئے تھے تاہم پولیس کی طرف سے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات تھے۔ خواتین پولیس اہل کاروں کی بڑی تعداد سیکیورٹی پر تعینات تھی۔شرکا کی طرف سے ’ میرا جسم میری مرضی ‘ اور ’عورت کیا مانگے آزادی ‘ کے نعرے بھی لگائے جاتے رہے۔ خواتین آرٹسٹوں نے مختلف گیتوں اور خاکوں کے ذریعے مسائل کو اجاگر کیا۔ 

عورت مارچ سے قبل ویمنز ایکشن فورم اور عورت مارچ لاہور کی منتظمین نے لاہور پریس کلب میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے اپنے مطالبات پیش کیے۔ ویمنز ایکشن فورم کی کنوینر نائلہ ناز، بانی رکن خاور ممتاز، اور عورت مارچ کی نمائندہ نادیہ اور فاطمہ سمیت دیگر خواتین رہنماؤں نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا۔خواتین رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ عورتوں، مذہبی، لسانی و صنفی اقلیتوں، اور سیاسی مخالفین و مزاحمتی تحریکوں کو عام زندگی سے مٹانے کے سلسلے کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان افراد کی جدوجہد کی اصل کہانیوں کو مکمل سچائی کے ساتھ تعلیمی نصاب، عجائب گھروں، اور تاریخی دستاویزات کا حصہ بنایا جائے جنہوں نے پدرشاہی اور ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت کی۔انہوں نے پنجاب پروٹیکشن آف ویمن ایگینسٹ وائیلنس ایکٹ 2012 کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے، کام کی جگہوں پر جنسی ہراسانی کے ازالے کے لیے بنائی جانے والی انکوائری کمیٹیوں کو بلا خوف و خطر اپنا کام سرانجام دینے کی اجازت دینے، اور جبری طور پر مذہب کی تبدیلی کا خاتمہ کرنے کا مطالبہ کیا۔خواتین رہنماؤں نے ٹرانسجینڈر اور خواجہ سراؤں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک اور تشدد کا خاتمہ کرنے، ٹرانس جینڈر پر سنٹز پروٹیکشن ایکٹ 2018 کو مضبوط بنانے، اور تمام لڑکیوں کے لیے تعلیم کے حق کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اظہار اور اختلاف رائے کی آزادی کو یقینی بنانے، جبری گمشدگیوں کا خاتمہ کرنے، اور تمام جبری طور پر لاپتہ افراد کو واپس لانے کا مطالبہ بھی کیا۔انہوں نے آزادی اظہار پر سینسر شپ کے لیے فائر والز اور حکمرانی کی ٹیکنالوجیز کے استعمال کو روکنے، پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2012 میں کی گئی ترمیم کو واپس لینے، اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 جیسے جابرانہ قوانین کے دائرہ کار کو مزید بڑھانے کے سلسلے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

خواتین  نے کہا کہ سب کے لیے صاف اور محفوظ ہوا کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے ریاست سے مطالبہ کیا کہ وہ سموگ سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے محفوظ عوامی نقل و حمل میں سرمایہ کاری کرے۔ انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی کے باعث ہونے والی نقل مکانی کو عوامی ایمرجنسی تسلیم کرنے، اور زرعی اراضی کو ذاتی مفاد میں استعمال کر کے غذائی قلت پیدا کرنے والے منصوبوں کو بند کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے آئی ایم ایف کے کہنے پر کیے جانے والے کفایت شعارانہ اقدامات کو ختم کرنے، تمام ورکرز کو گزارے لائق اجرت دینے، اور ایسے مالکان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا جو ورکرز کو گزارے لائق اجرت دینے سے انکاری ہوں۔

عورت مارچ کے شرکاء نے اپنے مطالبات کو پرزور انداز میں پیش کیا اور حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔

 
 

عورتوں کے لاہور میں مارچ کی نیوز چینلز سے زیادہ سوشل میڈیا پر کوریج ہوئی جو خود عورتوں اور ان کی برابری کی جدوجہد سے دلچسپی رکھنے والے مردوں نے کی۔