سٹی42: برٹش حکومت کے ایک اہم ادارہ نے، ایسا دکھائی دیتا ہے کہ، سزا دیتے ہوئے جنوبی ایشیا کی سلیبریٹی کے انگلینڈ آنے پر دس طویل سالوں کے لئے پابندی لگا دی۔ اس سلیبریٹی کا جرم کچھ زیادہ بڑا نہیں لیکن مسلسل اور اذیت ناک بہرحال ہے۔
ہوا کچھ یوں کہ انگلینڈ کے امیگریشن حکام نے پاکستان کی ماضی حال اور مستقبل بعید تک کی مایہ ناز اداکارہ میرا کے انگلینڈ میں داخلہ پر دس سال کی پابندی تھوپ دی۔
جس وقت انگلینڈ کی ملکہ کی سلطنت میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا تب برٹش قوم کے پاس فخر کرنے کی بہت سی وجہیں ہوں گی لیکن اب اکیسویں سدی کی دوسری چوتھائی آغاز ہو رہی ہے تو انگلینڈ کے پاس فخر کرنے کی وجہیں سمٹ سمٹا کر بس انگلیش زبان تک ہی محدود ہو گئی ہیں۔ برٹش لوگ اپنی زبان پر فخر کرنے مین یقیناً حق بجانب ہیں کہ چھوٹے سے جزیرہ میں مٹھی بھر اینگلو سیکسین لوگوں کی بولی آج دنیا کی سب سے بڑی رابطہ کی زبان ہے، علم و ادب اور سائینس و ٹیکنالوجی کی بھی یہی زبان ہے۔
اداکارہ میرا انگلش زبان پر ستم ڈھانے کی عادی ہیں، پاکستانی مداح ان کی گلابی بلکہ عنابی انگلش سن کر عموماً محظوظ ہوتے ہیں لیکن جب وہ اپنی یہی انگلش لینگویج سکِلز برٹش لوگوں پر آزماتی ہیں تو حساس برٹش لوگوں کی آنکھیں فرطِ غم سے بھیگ جاتی ہیں۔لیکن میرا جی کی اب اس ستم آفرینی کا انت ہو گیا ہے اور وہ اپنی عنابی انگلیش کے سبب خود پر برطانیہ کے دروازے 10 برس کیلئے بند کروا بیٹھیں۔
اب انشاف ہو رہا ہے کہ میرا دس سال سے انگلینڈ مین داخلہ پر عائد پابندی کو خاموشی سے برداشت کرتے تنگ آ گئی ہیں، اب وہ برٹش گورنمنٹ سے اپیل کرنا چاہتی ہیں کہ انہین برطانیہ آنے کی اجازت دی جائے کیونکہ "میرا کا انگلینڈ جانا آرٹ کے لئے ضروری ہے۔"
کم از کم انگلش زبان کی حد تک معصوم اداکارہ میرا کی والدہ نے نیوز چینل کے رپورٹر کو بتایا کہ دس سال پہلے میرا کی امیگریشن ہو چکی تھی، ائیرپورٹ پر امیگریشن حکام نے ان سے کچھ سوالات پوچھے جن کی میرا کو سمجھ نہیں آئی، میرا نے جو جوابات دیئے ان جوابوں کی برٹش امیگریشن اہلکاروں کو سمجھ نہیں آئی، برطانیہ پہنچنے کی بنی بنائی بات بگڑ گئی۔ وہ سوالات پوچھتے رہے، میرا اپنی معصوم عنابی انگلیش میں ان کو جوابات دیتی رہیں، یہ سوال و جواب کا سیشن میرا پر دس سال تک انگلینڈ جانے پر پابندی پر منتج ہوا۔
امیگریشن سٹاف کو والدہ کا نام غلط بنانے اور "ٹرانزٹ" کی جگہ "ٹرانزیکشن" بولنے پر امیگریشن حکام نے میرا کو لندن سے واپس کردیا تھا۔
میرا کی والدہ نے بات کو سمیٹتے ہوئے کہا، امیگریشن حکام نے میرا پر 10 برس تک برطانیہ داخلے پر بھی پابندی کردی تھی، میرا ایسی ہوشیار نکلیں کہ انہوں نے پاکستانی مداحوں کو اس سبکی آمیز پابندی کا دس سال تک پتہ نہیں چلنے دیا۔ اب میرا جی کے انگلینڈ داخلہ پر پابندی کی یہ مدت ختم ہوچکی ہے تو ان کی والدہ نے اس پابندی کا پبلک میں اعتراف بھی کر لیا ہے۔
ایک میڈیا آؤٹ لیٹ کے ساتھ انٹرویو میں میرا جی کی والدہ شفقت زہرہ بخاری نے دلچسپ انکشافات کیے اور بتایاکہ برطانوی ہائی کمیشن سے درخواست ہے کہ میرا کو ویزا جاری کیا جائے۔ دس سال پہلے کی کہانی کا ذکر کرتے ہوئے میرا جی کی امی جی نے عذر پیش کیا کہ" میرا کو لندن میں امیگریشن والوں کی انگریزی سمجھ نہیں آئی تھی اور نہ انھیں میرا کی سمجھ آئی۔"شفقت زہرا نے اپنی صاحبزادی کی لینگویج سکِلز کی مشفقانہ توجیہہ کرتے ہوئے کہا، "میرا اور امیگریشن حکام کے درمیان غلط فہمی ہو گئی تھی۔"
شفقت زہرہ بخاری نے بتایاکہ مِیرا آرٹسٹ ہے، اس کا لندن جانا ضروری ہے، اس کی نئی فلم میں لندن کے سین فلمبند کرنا ضروری ہیں، یہ (پابندی والی بات) 10 برس پرانی بات ہے۔ شفقت زہرا نے یقین کے ساتھ کہا کہ "اب تو میرا بہت اچھی انگریزی بولتی ہے۔"
شفقت زہرا نے اس انٹرویو میں انکشافات کی آبشار جاری کر دی اور بتایا کہ کئی انویسٹرز میرا کے ساتھ نئے پروجیکٹس شروع کرنا چاہ رہے ہیں، میرا کی کمپنی ڈرامے اور فلمیں بنارہی ہے اور شان کے ساتھ بھی فلم بنارہی ہے۔
شفقت زہرا نے یہ زمین ہلا دینے والا انکشاف بھی کیا کہ میرا بہت ذہین ہے اور اسے ہیڈ لائنز میں رہنے کا آرٹ آتا ہے۔
مامتا کی ماری شفقت زہرا نے مزید کہا، میرا انتہائی فرمانبردار ہے، میرے پاؤں چومتی ہے۔اس نے جو بھی کمایا میرے حوالے کیا۔ بھائیوں اور بہنوں کو بھی اس نے پڑھایا، میرا کی شادی قائم ہے اور سسرال والوں کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں۔