درنایاب:ایل ڈی اے کا پاکستان کی فرسٹ بائیکر لین کا تجرباتی منصوبہ ناقص پلاننگ اور کمزور انفورسمنٹ کا شکار ہونے لگا،ٹریفک وارڈن ، ٹیپا انفورسمنٹ ،ایل ڈی اے عملہ چند دن بعد ہی تھک گیا۔
بائیکر لین پر چند مقامات پر ٹریفک پولیس اور ٹیپا کے ملازمین تعینات ہیں،چند مقامات پر شہری ٹریفک پولیس ،ٹیپا انفورسمنٹ کی گائیڈ لائن نہیں مان رہے،شہری بائیکر لین کو چھوڑ کر من موجی راستوں پر گامزن ہیں۔بائیکر لین پر چند روز میں ہی شہریوں سے عملدرآمد کرانا مشن امپاسیبل ہو گیا۔بائیکر لین استعمال کریں نہ کریں کوئی سزا جزا کا قانون موجود ہی نہیں۔
ایل ڈی اے بائیکر لین بنا کر فارغ ہوگیا مگر عملی اطلاق پر ٹھوس حکمت عملی نہ بنائی گئی،بعض مقامات پر بائیکر لین بننے سے فیروز پور روڈ تنگ ہوچکی۔
بائیک لین اِن اور آوٹ میں مڑنے والی ٹریفک سے تصادم کے خدشات کا شکار ہونے لگی،بائیکر لین کو کراس کرکے مڑنے والی ٹریفک کے پاس کوئی میکنیزم ہی نہیں۔کمزور انفورسمنٹ کے باعث بائیکر لین میں رکشوں کا چلنا بھی معمول بن گیا۔
بائیکر لین کو مین کوریڈور سے الگ کرنیوالی رکاوٹی بیرئیر پرگاڑیاں چڑھنے کے واقعات بھی عام ہونے لگے۔
کیپشن: File photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App