سٹی 42: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ آڈٹ حکام نے انکشاف کیا پاسپورٹ اور ایمیگریشن میں پاکستان سے تین سال تک باہر رہنے والے افسران کو واپس نہیں بلالیا گیا، تین سال کے بعد افسران کو واپس بلاکر دیگر کو بھیجا جانا چاہئے تھا۔
حنا ربانی کھر نے کہا فارن مشن میں تین سال سے زائد عرصہ پوسٹنگ دینا خلاف ضابطہ ہے، فارن مشین میں تعینات افسران اور عملے کو تین سال کے مکمل ہونے پر کس قانون کے تحت توسیع دی گئی،
ڈی جی پاسپورٹ محمد علی رندھاوا نے بریفنگ کی اور کہا تین سال کے بعد پالیسی میں تبدیلی کی وجہ سے افسران اور عملے تو واپس نہیں بلا سکے۔ جب تک پالیسی نہیں بنتی، فارن مشن میں توسیع پر تعینات افسران اور عملے واپس بلایا جائے، تین سال سے زائد عرصے کے بعد تعیناتی میں توسیع کے اخراجات پر آڈٹ اعتراض اٹھے گا۔
ڈی جی پاسپورٹ محمد علی رندھاوا نے کمیٹی میں بریفننگ دیتے ہوئے بتایا کہ بیرون ملک لوگوں کو 3 سال کے لئے پوسٹ کیا گیا تھا کمیٹی نے پوچھا 3 سال کے لئے گئے تو تین سال واپس بھیجوایا، ڈی جی پاسپورٹ نے کہا ہم نے تین سال بعد لوگوں کو واپس بلانے کے لئے منسٹیری کو لکھا۔منسٹری نے ہمیں نئی پالیسی بنانے کا کہا ۔
تین سال پورے ہونے کے بعد تعینات لوگوں کو واپس کیوں بلایا گیا۔۔ ڈی جی پاسپورٹ نے کہا منسٹری کی طرف ہمیں واپس بلانے کا نہیں کہا گیا بلکہ کنٹریکٹ میں توسیع کر دی گئی
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ہدایت پر سختی سے عملدرآمد کرواں گا،
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ہدایات ہر 21 دن میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنا چاہتا ہوں،فارن مشن میں تعینات افسران اور عملے کی توسیع 2 سال سے جاری ہے۔فارن مشن میں تعینات افسران اور عملہ کی توسیع میری تقرری سے پہلے کی ہے، ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ اور ایمیگریشن بنے بہت عرصہ نہیں ہوا، چوہدری نصیر عباس رکن پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کہا فارن مشن میں تعینات افسران اور عملے کی توسیع میں افسران اور عملے کی کوئی غلطی نہیں، چیرمین کمیٹی نے کہا جنہوں نے بیرون ملک تعیناتیوں کی پالیسی پر عملدرآمد نہیں کیا ان کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے۔ابھی بھی اپ لوگوں نے پالیسی پر عملدرآمد نہیں کیا گیا، سیکرٹری داخلہ 2ہفتے میں اس پر تمام معلومات کمیٹی کو فراہم کریں، سنیٹر بلال نے کہا یہ آڈٹ پیرا 2025 کا ہے تو وہاں موجود لوگ ایکسٹرا 2 سال سے تعینات ہیں۔
ڈی جی پاسپورٹ نے کاہ یہ سارا معاملہ میری پوسٹنگ سے پہلے کا ہے۔ ہمیں 2 ہفتے کا ٹائم دیں ہم چیزیں سیٹل کر لیں۔ ڈاکٹر طارق فضل نے کہا بیرون ملک تعینات لوگوں کو جو تںخواہیں گئی ہیں ان کو ریگولرائز کرنا ہوگا۔
کیونکہ پاسپورٹ کا ادارہ نئے لوگ بھیجے گا تو وہ واپس آئیں گے تو ان کی تنخواہیں لینا غلط نہیں ہے۔
سیکرٹری داخلہ احمد رضا سرور نے کہا ہمیں اس پالیسی کو دیکھنا ہوگا، کیونکہ پالیسی تو 2016 سے بنی ، ہمیں 3 ہفتے سے زائد کا ٹائم دیا جائے, فوری طور پر اگر ہم بیرون ملک تعینات لوگوں کو واپس بلائیں گے تو سروسز میں مسلہ ہوگا۔