ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

آصفہ بھٹو زرداری کا بچوں کے تحفظ کے لیے مضبوط نظام بنانے پر زور

آصفہ بھٹو زرداری کا بچوں کے تحفظ کے لیے مضبوط نظام بنانے پر زور
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہر بچے کو گھر، اسکول، معاشرے اور ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ رہنے کا بنیادی حق حاصل ہے، بچوں کے خلاف تشدد، بدسلوکی، استحصال یا غفلت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ دنیا بھر میں بچے جسمانی و جنسی تشدد، انسانی اسمگلنگ، جبری مشقت، کم عمری کی شادی، استحصال اور آن لائن بدسلوکی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ بھی متعدد بار بچوں کے خلاف تشدد کے بڑے پیمانے پر موجود ہونے سے خبردار کرچکا ہے اُنہوں نے کہا کہ بچوں کے خلاف تشدد کی روک تھام ممکن ہے، تاہم اس کے لیے سیاسی عزم، مضبوط اداروں اور مسلسل اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں یہ ذمہ داری خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔

خاتون اول کا کہنا تھا کہ بچوں کے آن لائن استحصال سے متعلق حالیہ شواہد یاد دلاتے ہیں کہ بچپن کو لاحق خطرات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کو بچوں کے مواقع، تعلیم اور علم میں اضافے کا ذریعہ بننا چاہیے، اسے شکاری عناصر کے لیے بچوں تک رسائی کا ذریعہ نہیں بننے دینا چاہیے بچوں کا تحفظ کسی سانحے کے بعد شروع نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا آغاز روک تھام سے ہونا چاہیے۔ 

اُنہوں نے کہا کہ بچوں کے خلاف جرم پر خاموشی، بدنامی کا خوف یا مجرم کو تحفظ نہیں ملنا چاہیے، جبکہ بچوں کے تحفظ کے نظام میں روک تھام، تحقیقات، بحالی اور انصاف کو مربوط کیا جائے باخبر والدین، محفوظ اسکول اور تربیت یافتہ اساتذہ بچوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔

خاتون اول نے کہا کہ پاکستان کو بچوں کے تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔ بچپن کا تحفظ خیرات نہیں بلکہ حقوق، انصاف اور اس قوم کی نوعیت کا معاملہ ہے جسے ہم مستقبل میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

آصفہ بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ حکومتی و قانون نافذ کرنے والے ادارے، اسکول، سول سوسائٹی، مذہبی و معاشرتی رہنما اور میڈیا بچوں کے تحفظ کو مشترکہ قومی ذمہ داری بنائیں۔ ان کے مطابق پاکستان کے مستقبل میں اس بچے کے تحفظ سے بڑھ کر کوئی بہتر سرمایہ کاری نہیں ہوسکتی جو کل اس ملک کا وارث بنے گا۔