ڈيرہ اسماعیل خان میں بچی کو ونی کرنے کے کیس میں گرفتار کئے گئے ملزموں فرید اور کفایت کو 3 روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔ بارہ سال کی بچی کو ونی کرنے والے دو ملزم ضمانت کروا کر اور ایک مفرور ہو کر پولیس کی پہنچ سے باہر ہیں۔
مقدمے میں نامزد 2 مرکزی ملزموں ملک عنایت اور رمضان نے خود کو عدالت میں پیش کردیا جنہیں عدالت نے 15 مارچ تک عبوری ضمانت دے دی۔ ایک ملزم جلال مفرور ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں باپ نے بیٹی کو ونی کرنے کا غیر قانونی حکم دینے والے اس پنچایتی گروہ کے سامنے بے بس ہو کر خود کشی کر لی تھی۔ اس "شرفا مرجموں کے ٹولے" کا سب سے برٓ ہتھیار ان کی سماجی طاقت ہے۔ عدالت نے دو ملزموں کو "عبوری ضمانت" دی ہے، جس کے بعد اب یہ ملزم اپنی سماجی طاقت کو مظلوم گھرانے کو دبانے اور پولیس اہلکاروں پر دباؤ ڈالنے کے لئے آزاد ہیں۔
بیٹی کو ونی ہونے سے بچانے کی خاطر خودکشی کرنے والے مظلوم شہری عادل کی قبر کھول کر ان کا پوسٹ مارٹم کرنے کا بھی ڈسٹریکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے حکم دیا ہے، متوفی عادل نے اپنے اور اپنی بیٹی کے ساتھ ہونے والے ظلم کی پوری کہانی جس آڈیو وائس میسج میں محفوظ کی ، اس کا فورنزک کرنے کا بھی عدالت نے حکم دے دیا ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں گاؤں بھگوانی میں پنچایت کی جانب سے 12 سال کی بچی کو ونی کرنے کے لئے اس کو زبردستی مجبور کرنے والے نام نہاد معزز پنچایتیوں کے دباؤ سے عاجز ہو کر بچی کے والد عادل نے دلبرداشتہ ہوکر زہریلی گولیاں کھاکر خودکشی کرلی تھی۔
خودکشی سے پہلے اپنے آڈیو پیغام میں والد نے 6 افراد کو بچی کو ونی کرنے کا ذمہ دار قراردیا تھا۔