ہمارا بھی کچھ خیال کریں۔۔ زرداری  ایم کیو ایم وفد  ملاقات کی ’’اندرونی کہانی‘‘

آصف علی زرداری، خالد مقبول صڈیقی
کیپشن: Asif Ali Zardari, Khalid Maqbool Siddiqui
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: سابق صدر مملکت آصف علی زرداری سے ایم کیو ایم پاکستان کے وفد کی ملاقات کی اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی ہے۔

ذرائع کے مطابق  ایم کیو ایم زرداری ملاقات یقینی بنانے میں ڈاکٹر عاصم اور سلیم مانڈی والا نے بنیادی کردار ادا کیا۔ ملاقات سے ایک روز قبل رات گئے تک سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم  متحدہ کے وفد سے مذاکرات کرتے رہے۔ ذرائع کے مطابق وفد میڈیا کی موجودگی میں ملاقات اور میڈیا ٹاک نہیں چاہتا تھا۔ وفد کی گفتگو کا محور شہری سندھ کے مسائل اور ن کے حل پر گفتگو رہی۔ایم کیو ایم نے اردو بولنے والوں کے مسائل پر گفتگو کی۔ اس کے علاوہ کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں میں سرکاری کی تقرریوں اور تعیناتیوں کا معاملہ اٹھایا۔آصف زرداری نے فوراً ہی مراد علی شاہ کو معاملہ دیکھنے اور شکایت دور کرنے کی ہدایت کی۔

ملاقات کے دوران ایم کیو ایم کے وفد نے کہا  زرداری صاحب، سندھ میں ہمارا بھی کچھ خیال کریں۔ جس پر سابق صدر بولے آپ کے بڑوں کا بھی خیال کیا، آپ کا کیوں نہیں کریں گے؟ 

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ہم بانی متحدہ سے علیحدہ ہو کر مشکل حالات میں پاکستان کا پرچم اٹھائے ہوئے ہیں۔ سندھ میں سرکاری ملازمتوں میں اردو بولنے والوں سے امتیاز  برتا جارہا ہے۔ سابق صدر نے جواب دیا سندھ میں شہری دیہی کوٹہ پر مکمل عملدرآمد کے پابند ہیں۔ ایم کیو ایم کی شکایت کا جائزہ کے کر اسے دور کیا جائے گا۔  پھر  آصف زرداری نے مسکراتے ہوئے کہا مراد علی شاہ بیٹھے ہیں، ان سے پوچھیں انہوں نے مجھے کتنی نوکریاں دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم نے اپنے بند دفاتر کھولنے کا بھی معاملہ اٹھایا۔ جس پر آصف زرداری نے مراد علی شاہ کو ایم کیو ایم کے دفاتر فوری طور پر کھولنے کی ہدایت کی۔ 

اس موقع پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ایم کیو ایم کے دفاتر وفاقی حکومت کے کہنے پر رینجرز نے بند کر رکھے ہیں۔ جس پر آصف زرداری نے کہا ڈی جی رینجرز سے بات کر کے بند دفاتر کھلوائیں۔ سیاسی جماعتوں کو اسپیس نہ  ملے تو معاشرے میں انتہا پسند رویے فروغ پاتے ہیں۔شہری سندھ میں سیاست اور سیاسی عمل کا حصہ بننا ایم کیو ایم پاکستان کا بنیادی حق ہے۔

ملاقات میں اتفاق ہوا کہ  تحریک انصاف سے اشتراک ایم کیو ایم کے لئے سیاسی طور پر  نقصان دہ ہے۔