ابوبکر ارشد:ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دودھ اور دہی کی سرکاری قیمتوں کا تعین کیے جانے کے باوجود اوپن مارکیٹ میں ان نرخوں پر عملدرآمد یقینی نہ بنایا جا سکا، جس کے باعث شہری مہنگے داموں دودھ اور دہی خریدنے پر مجبور ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے دودھ کی سرکاری قیمت 170 روپے فی لٹر مقرر کر رکھی ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں دودھ 200 سے 240 روپے فی لٹر تک فروخت کیا جا رہا ہے۔
اسی طرح دہی بھی سرکاری نرخوں کے برعکس 240 سے 260 روپے فی کلوگرام میں فروخت ہو رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخنامے صرف کاغذوں تک محدود ہیں جبکہ مارکیٹ میں دکاندار من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں۔
ان کا مطالبہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ کے افسران دودھ اور دہی کی سرکاری قیمتوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں اور زائد نرخ وصول کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
دوسری جانب مارکیٹ میں گھی، کوکنگ آئل، چاول، گرم مصالحہ جات اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں اب بھی عام آدمی کی استطاعت سے باہر ہیں، جس کے باعث شہری سستی اشیا کی فراہمی کے منتظر ہیں۔
اوپن مارکیٹ میں گھی کی مختلف اقسام 490 سے 610 روپے فی کلوگرام میں دستیاب ہیں، جبکہ کھلی چینی 160 روپے اور پیکنگ والی چینی 190 روپے فی کلوگرام میں فروخت کی جا رہی ہے۔
اسی طرح مختلف اقسام کے چاول 320 سے 640 روپے فی کلوگرام تک فروخت ہو رہے ہیں، جس کے باعث روزمرہ استعمال کی بنیادی غذائی اشیا بھی کم آمدنی والے خاندانوں کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔
شیئر کریں: