سٹی42: جاہل سماج میں انگاروں پر چلائے گئے مظلوم "سوشل میڈیا انققلابیوں" کی مہربانی سےجنگل میں پناہ گزین ہو گئے۔ سماج کے اجتماعی ظلم کا شکار ہونے والے افراد کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد زیادہ سخت سزا مل رہی ہے۔
موسی خیل کے گاؤں کوٹ خان محمد میں چند روز قبل "انصاف کی قبائلی روایت" کے نام پر انگاروں پر چلایا گیا تھا۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آ جانے سے سوشل میڈیا انقلابیوں نے طوفان کھڑا کر دیا۔ انتظامیہ نے "فوری کارروائی" کی اور اس افسوس ناک واقعہ میں ملوث کئی لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کر دیا۔
اس واقعہ پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا خوب ماتم کیا گیا لیکن اس کے بعد یہ ہوا کہ انگاروں پر چلائے گئے مظلوم اپنی جانیں بچانے کے لئے علاقہ ہی چھوڑ دینے اور جنگ میں جا کر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ جنگل میں بھی ان کی زندگیاں محفوظ نہیں ہیں۔
آٹھ انسانوں کو صرف قبائلی انصاف کی رسم کے تحت دہکتے ہوئے انگاروں پر ننگے پاؤں چلائے جانے کی خبروں نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس واقعے نے نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بے نقاب کیا بلکہ علاقے میں فرسودہ پختون قبائلی نظام کو بھی واضح کر دیا۔
میڈیا کی نشاندہی کے بعد حکومت نے اس افسوسناک واقعے میں ملوث چند افراد کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا، تاہم متاثرین کے مطابق اب انہیں مزید ظلم کا سامنا ہے۔ انہیں بلیک میل کیا جا رہا ہے کہ وہ بیان دیں کہ ہمیں کسی نے آگ میں نہیں ڈالا۔ مقامی تھانے میں الٹا انہی مظلوموں کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے اور گرفتاری کی دھمکیاں دے کر انہیں خاموش رہنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
متاثرین کی طرف سے پشتو زبان مین ایک ویڈیو بیان سامنے آیا ہے۔ ان لوگوں نے بتایا کہ وہ خوف کے سبب موسی خیل چھوڑ کر کسی جنگل میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
پشتو زبان میں اس ویڈیو بیان میں انہوں نے بتایا کہ ہم جنگل میں بیٹھے ہیں۔ موسی خیل جانے سے خوف آتا ہے۔ اگر ہم نے سچ بولا تو ہمیں شدید نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں
ان افراد نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کمشنر لورلائی اور چیف سیکریٹری بلوچستان سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مقامی اثرورسوخ رکھنے والے عافراد کے ظلم سے بچایاجائے اور انہیں انصاف دلایا جائے۔
انہوں نے کہا، کہ ہم مظلوم ہیں۔ ہمیں آگ میں ڈالا گیا۔ آج بھی ہمیں خاموش کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہم سرکار سے فریاد کرتے ہیں کہ ہماری پکار سنی جائے اور ہمیں تحفظ دیا جائے
موسیٰ خیل میں کیا واقعہ ہوا تھا؟
بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں گزشتہ روز ایک مقامی جرگے کے حکم پر چوری کے شبے میں 8 افراد کو دہکتے انگاروں پر چلنے پر مجبور کیا گیا۔
اس واقعہ کی جو تفصیل سامنے آئی اس کے مطابق یہ واقعہ کوٹ خان محمد کے پہاڑی علاقے میں ایک دکان میں چوری کے بعد پیش آیا۔
جن لوگوں پر چوری میں ملوث ہونے کا شبہ کیا گیا، ان کی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے قدیم قبائلی رسم "آگ کا امتحان" سے گزرنے کے لئے کہا گیا۔
آٹھبے گناہ انسانوں کو انگارے دہکا کر ان کر سے گزارا گیا اور اس رسم کے بعد تمام 8 افراد کو بے گناہ قرار دے دیا گیا کیونکہ کسی کو بھی زخم نہیں آئے۔ اس واقعہ کی ویڈیو بھی کسی نے بنا لی۔
سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہو گئی کیونکہ سوشل میڈیا انقلابیوں کو یہ ظلم بہت زیادہ ظلم محسوس ہوا تھا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس واقعہ کا نوٹس لیا۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جرگے کے 6 ارکان کو گرفتار کر لیا جبکہ مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس نے جرگے کے نمائندوں کو گرفتار تو کر لیا لیکن متاثرہ مظلوموں کو کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا۔