عابد چودھری:ٹاؤن شپ پولیس کی حراست میں 2 خواتین کی ہلاکت کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں خواتین کی پولیس حراست میں جانے سے قبل کی موبائل ویڈیو منظر عام پر آگئی، جسے معاملے کی جاری انکوائری کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں دونوں خواتین کو ٹاؤن شپ کے بی بلاک میں علاقہ مکینوں کے ساتھ تکرار کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق علاقہ مکین مبینہ واردات میں ہتھیائی گئی رقم واپس کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
موبائل ویڈیو کے مطابق خواتین نے پولیس کے پہنچنے سے قبل جائے وقوعہ سے نکلنے کی کوشش بھی کی، تاہم بعد ازاں پولیس انہیں حراست میں لے کر تھانے منتقل کرگئی۔
دونوں خواتین کی پولیس حراست میں ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ پولیس حراست میں جانے سے پہلے کی سامنے آنے والی ویڈیو کو بھی انکوائری کا حصہ بنا لیا گیا ہے تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جاسکے۔
واضح رہے کہ پولیس کے مطابق دونوں خواتین کو 4 اگست کو دوپہر 2 بج کر 59 منٹ پر ایک کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا تھا، جبکہ خواتین نوسربازی کے مقدمات میں ریکارڈ یافتہ تھیں۔
پولیس کے مطابق دونوں خواتین کے خلاف لاہور اور گجرات میں نوسربازی کے مقدمات پہلے بھی درج ہوچکے تھے۔ ٹاؤن شپ میں درج سابقہ مقدمہ نمبر 1423/26 کے مدعیان نے بھی دونوں خواتین کو شناخت کیا تھا۔
پولیس کا کہنا تھا کہ 15 کی کال موصول ہونے پر کارروائی کرتے ہوئے دونوں خواتین ملزمان کو تھانے لایا گیا۔ بعد ازاں شہری ذیشان کی درخواست پر دونوں خواتین کے خلاف مقدمہ نمبر 1476/26 بھی درج کیا گیا۔
دونوں خواتین کی ہلاکت کی اصل وجہ جاننے کے لیے میڈیکل بورڈ کے ذریعے پوسٹ مارٹم کرایا گیا۔ پولیس کے مطابق ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں دونوں خواتین کی موت طبعی قرار دی گئی ہے، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب ضابطہ فوجداری کی دفعہ 176 کے تحت مجسٹریٹ نے ہلاکتوں کے معاملے کی انکوائری شروع کردی ہے۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور کے حکم پر انکوائری رپورٹ ایک ماہ کے اندر جمع کرائی جائے گی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اگر انکوائری رپورٹ میں پولیس تشدد کا معاملہ ثابت ہوا تو ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔