سٹی 42 : وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی وفد ہمراہ مفتی محمود مرکز آمد، امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی ۔
ملاقات میں اسد قیصر، شہرام ترکئی، شفیع جان سمیت دیگر شریک ہوئے، جےیوآئی کے ممبران پارلیمنٹ بھی اجلاس میں شریک ہوئے ۔ سہیل آفریدی کی ایک ماہ میں مولانا فضل الرحمان کے ساتھ دوسری ملاقات ہوئی ۔
سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان اور وزیراعلی سہیل آفریدی کی میڈیا ٹالک
سہیل آفریدی نے کہا کہ عزت افزائی کرنے پر مولانا کا شکریہ ادا کرتے ہیں ، صوبائی حکومت این ایف سی میں شئیر پر مولانا سے بات کرنے آئی ہے، ہرسال این ایف سی کی تقسیم غیر آئینی ہوتی ہے ، این ایف سی میں ہمارے صوبے کو کچھ نہیں مل رہا ، آپس میں تقسیم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت مسلسل گندم روک رہی ہے۔ مولانا کے ساتھ گیس اور دیگر صوبے کے معملات پر مشترکہ آواز اٹھانے پر اتفاق ہوا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیراعلی سہیل افریدی اور انکی ٹیم کو خوش آمدید کہتا ہوں ، این ایف سی ایوارڈ سیمت بہت سے نکات پر اتفاق ہوا ہے ، صوبائی خود مختاری پر متفق ہیں ، ہر صوبے کے عوام وسائل کے مالک ہیں، توقع رکھتا ہوں کہ صوبائی حکومت صوبے میں عوام کے مفاد کے لیے کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی اضلاع میں حکومت رٹ ختم ہوچکی ہے ، مسلح گروپس ہیں ، صوبے میں مدارس تحفظ قانون کو پاس کیا جائے ، فاٹا عملا اب تک ضم نہیں ، اس کے واجبات اب تک پورے نہیں ہوئے ، 2017 میں فاٹا ضم ہوا تھا ، ابھی تک وہاں بندوبستی تقسیم نہیں ہوئی ۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پنجاب سے گندم کی ترسیل پر پابندی آئین کے خلاف ہے ، اب تو پاکستان افغان سرحد بھی بند ہے ، پھر بھی صوبے کے عوام پر پنجاب نے گندم بند کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں الیکشن کو مسترد کرتے ہیں ، اس پر بھی ہمارا اتفاق ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گندم کی ترسیل پر پابندی عوام کے حقوق پر ڈاکا ہے، صوبائی حکومت امن وامان کے معاملات پر تمام پارٹیوں کو اعتماد میں لے، تحریک انصاف کے ساتھ اچھی ابتداء ہے، ہمیں ماحول کو بہتر بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی بجٹ کے حوالے سے کیا مجبوریاں ہیں اس کا علم نہیں، دینی مدارس کے حوالے سے خیبرپختونخوا اسمبلی میں قانون سازی کی جائے گی، بجٹ کے ماحول میں تھوڑی بہت ناراضگی موجود ہیں اس کا یہ مطلب بغاوت ہورہی ہے۔