درِ نایاب:لاہور ماسٹر پلان میں شہر کو مکمل طور پر براؤن ایریا قرار دینے کے مجوزہ ڈرافٹ پر اعتراضات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ حالیہ عوامی شنوائی کے بعد جمع کرائے گئے اعتراضات کی تعداد بڑھ کر 101 ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اعتراضات جمع کرانے والوں میں ڈویلپرز، ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مالکان، وکلا اور عام شہری شامل ہیں۔ زیادہ تر اعتراضات اس بات پر کیے گئے ہیں کہ مجوزہ ماسٹر پلان میں گرین ایریاز ختم کرکے انہیں براؤن ایریا قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گرین ایریاز کے خاتمے سے غیر آباد اور غیر منظور شدہ ہاؤسنگ سکیموں کو فائدہ پہنچنے کا خدشہ ہے، جبکہ مجوزہ پلان میں لاہور کے گرین ایریاز کو قصور، شیخوپورہ اور ننکانہ صاحب کی جانب منتقل دکھایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ ماسٹر پلان سے بااثر ڈویلپرز کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ دیگر اضلاع کے اسٹیک ہولڈرز خود کو متاثر قرار دے رہے ہیں اور اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ قانون کے مطابق متعلقہ ادارے پر تمام اعتراضات کا تسلی بخش جواب دینا لازم ہے۔ اگر اعتراض کنندگان فراہم کردہ جواب سے مطمئن نہ ہوں تو انہیں عدالت سے رجوع کرنے کا قانونی حق حاصل ہوگا۔