ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان  میں زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 5.8  ریکارڈ

پاکستان  میں زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 5.8  ریکارڈ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: رات گئے پاکستان کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔ زلزلے کے جھٹکے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، راولپنڈی اور آزاد کشمیر سمیت متعدد علاقوں میں محسوس کیے گئے۔

زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں اسلام آباد، راولپنڈی، مری، گلیات، ایبٹ آباد، گلگت، سکردو، سوات، شانگلہ، بونیر، وادی نیلم، مظفرآباد اور آزاد کشمیر کے دیگر علاقے شامل ہیں۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.8 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی زیرِ زمین گہرائی 159 کلومیٹر تھی۔ زلزلے کا مرکز تاجکستان اور سنکیانگ کا سرحدی علاقہ بتایا گیا ہے، جہاں جھٹکوں کی شدت 6.1 ریکارڈ کی گئی۔

حکام کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

 زلزلے کیوں آتے ہیں؟

  زلزلے قدرتی آفت ہیں جن کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری بھارتی اور تیسری اریبین ہے۔ زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔ زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔  

 زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں ميں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔ پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے۔         کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں ہیں، جن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔

   زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔         پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے۔ یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے۔ پاکستان کے دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانے درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔