سٹی42: اسلام آباد میں وفاقی حکومت کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) نے پیٹرولیم مصنوعات پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں 5 فیصد سے 10 فیصد اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 2 روپے 56 پیسے تک اضافہ ہونا یقینی ہو گیا ہے, یہ اضافہ خام تیل ک یقیمت میں حالیہ اضافہ کے اثرات سے الگ ہو گا۔
۔ انٹرنیشنل مارکیٹ میں پٹرول اور ڈیزل، خام پٹرولیم کی قیمت کم بھی ہو جائے تب بھی 16 دسمبر کو پاکستانی عوام پر پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی بجلی گرنا اب یقینی ہے۔
منگل کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ای سی سی اجلاس ہوا جس میں پیٹرول اور ڈیزل پر او ایم سیز اور ڈیلرز کے منافع میں اضافے کی منظوری دی گئی۔
ای سی سی کے اپنے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ای سی سی نے پیٹرولیم مصنوعات پر او ایم سیز اور پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں 5 سے 10 فیصد اضافہ منظور کر لیا۔ مارجن میں نصف اضافہ فوری نافذ ہو گا۔ باقی نسف کمپنیوں کے اپنے تمام نظام کو ڈیجیٹائز کرنے کے بعد ملے گاْ۔ کمپنیوں کے منافع کو بڑھانے سے ہر کنزیومر کی جیب پر اتنا بوجھ پڑے گا جسے وہ "محسوس نہ کرے تو بالکل محسوس نہیں ہو گا۔"
ذرائع کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرزکا منافع بڑھانے کی وجہ سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کم از کم فی لیٹر 2 روپے 56 پیسے تک اضافے کا امکان ہے۔