آئی ایم ایف کی پاکستانی معیشت کے بارے میں بڑی پیشگوئیاں

IMF-Pakistan Economy
IMF-Pakistan Economy

(مانیٹرنگ ڈیسک) آئی ایم ایف نے پاکستان کے دوسرے سے پانچویں جائزہ مشن کی رپورٹ جاری کردی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان کو سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس میں اصلاحات کرنا ہوں گی، موجودہ مانیٹری پالیسی درست ہے، اسٹیٹ بینک کو مزید خودمختاری دینا ہوگی، ڈالر کا مارکیٹ ریٹ ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے قرض پروگرام کے بیشتر اہداف پر عمل درآمد کیا، پاکستان ٹیکسوں کی وصولیوں میں اضافے کے اقدامات کر رہا ہے، توانائی کے شعبہ میں اصلاحات کی جارہی ہیں، کورونا کی وجہ سے پاکستان نے تین اہداف پر تاخیر سے عمل درآمد کیا، جنرل سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس ریفارمز اور ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر عمل درآمد میں تاخیر ہوئی، بی آئی ایس پی کے مستحقین کے ڈیٹا بیس کو اپ ڈیٹ کرنے میں بھی تاخیر ہوئی۔

  آئی ایم ایف نے رپورٹ میں کہا کہ پاکستان نے دو اسٹرکچرل بنچ مارکس، مزید ٹیکس ایمنسٹی سکیم نہ دینے کی شرط اور مزید ٹیکس مراعات جاری نہ کرنے کی شرط پر عمل درآمد نہیں کیا تاہم پاکستان نے اپنے حالیہ اقدامات کے باعث توانائی شعبہ کے واجبات کو قابو کیا، سرکلر ڈیبٹ مینجمنٹ پلان پر عمل درآمد، نیپرا ایکٹ میں ترامیم شعبہ توانائی کیلئے اہم ہیں، بجلی کی پیداواری لاگت کی وصولی ضروری ہے، ٹارگٹڈ سبسڈیز اور باقاعدہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اہم ہیں، سرکاری اداروں میں بہتر گورننس اور شفافیت کے اقدامات کرنا ہوں گے، انسداد منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے ایکشن پلان پر عمل درآمد کیا جائے، اینٹی کرپشن کے اداروں کو مضبوط کیا جائے، 2022 کے اہداف حاصل کرنے کیلئے ٹیکس اصلاحات کرنا ہوں گی، رواں سال پاکستان کی جی ڈی پی 1.5 فیصد رہے گی۔

آئی ایم ایف کے مطابق رواں سال مہنگائی کی شرح 8.7 فیصد تک رہے گی، 2020ـ21 میں بجٹ خسارہ 7.1 فیصد تک رہے گا، رواں سال قرضوں اور واجبات کی شرح جی ڈی پی کے 92.9 فیصد تک رہے گی ، جاری کھاتوں کا خسارہ 1.5 فیصد تک رہے گا، بیرونی قرضوں کا حجم جی ڈی پی کا 42.1 فیصد تک رہے گا، رواں سال زرمبادلہ کے ذخائر 14.4 ارب ڈالرز رہیں گے۔