"جیلوں میں کورونا وائرس سے بچائو کے لیے اقدامات مزید سخت کر دیئے "


علی اکبر: صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارکی ہدایت پرصوبہ کی تمام جیلوں میں کورونا وائرس سے بچائو کے لیے اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں اور قیدیوں کی سکریننگ کے ساتھ جہاں ضروری ہو وہاں پی سی آر ٹیسٹ بھی کیا جا رہا ہے۔

صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے بتایا کہ جیلوں میں قیدیوں کی تعداد اور گنجائش کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کا ٹرانسفر پلان ترتیب دیاگیا ہے جس کے مطابق 3500 قیدیوں کو مختلف جیلوں میں شفٹ کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پنجاب میں قیدیوں کی کل تعداد 45ہزار 535 ہے جن میں سے انڈر ٹرائل قیدیوں کی تعداد 25ہزار708 ہے اوران میں 713 خواتین قیدی ہیں ۔

وزیر قانون نے کہا کہ نئے آنے والے قیدیوں کے ٹیسٹ کئے جاتے ہیں اور ان کو 14دن کے لئے قرنطینہ سنٹر میں رکھا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی تمام ڈسٹرکٹ جیلوں میں کورونا وارڈزقائم کرنے کے ساتھ ساتھ داخلی دروازوں پر کورونا کائونٹرزبھی قائم کر دیے گئے ہیں ۔ جہاں تمام آنے والوں کو چیکنگ کے بعد اندرجانے دیا جاتا ہے ۔

راجہ بشارت نے کہا کہ جیل میں موجود تمام میڈیکل سٹاف کو کورونا کے حوالے سے خصوصی ٹریننگ دلوائی گئی ہے اور تمام ڈاکٹرز کو پرسنل پروٹیکشن کٹس فراہم کر دی گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جونہی کورونا وائرس کا خطرہ سامنے آیا،قیدیوں کی ملاقاتوں اور عدالتوں میں پیشی پر فوری پابندی لگا دی گئی تھی ۔

انہوں نے کہا کہ جیلوں میں ڈیوٹی پر تعینات عملے کو جیل سے باہر جانے کی اجازت نہیں, نیزقیدیوں کی ایک بیرک سے دوسری بیرک میں جانے یا کسی قسم کے اجتماع پر بھی پابندی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جیل سٹاف اور قیدیوں کو عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق کورونا سے بچائو کی حفاظتی تدابیر سے آگاہی بھی فراہم کی گئی ہے ۔