فوڈ اتھارٹی کی ملک شاپس اور دودھ بردار گاڑیوں کی چیکنگ

فوڈ اتھارٹی کی ملک شاپس اور دودھ بردار گاڑیوں کی چیکنگ

( عمران یونس ) ڈی جی فوڈ اتھارٹی کی سربراہی میں اقبال ٹاؤن میں مِلک شاپس اور دودھ بردار گاڑیوں کی چیکنگ، 1 ہزار780 لیٹر ناقص دودھ تلف کردیا گیا۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کا لاہورمیں ناقص دودھ کےخلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، اس دوران11 ملک شاپس اور دودھ بردار گاڑیوں میں موجود 2 ہزار870  لیٹردودھ کی چیکنگ کی گئی۔

شیر ربانی، علی، التوکل، تاج دین، اکرم گجر، ابوسفیان، المدینہ ملک شاپس اور دودھ بردار گاڑی میں موجود ناقص دودھ تلف کیا گیا۔ مقبول ملک شاپ، شرافت اور بی ایم ملک شاپ کو مزید بہتری کے لیے اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔

ڈی جی فوڈ اتھارٹی کے مطابق جدید موبائل ٹیسٹنگ لیب میں چیکنگ کے دوران تلف کیے گئے دودھ کی ایل آر انتہائی کم اورپانی کی ملاوٹ پائی گئی۔

قوانین کے مطابق دودھ کی مقدار اور گاڑھے پن میں اضافے کیلئے کیمیکلز، پاؤڈر اور پانی کی ملاوٹ سنگین جرم ہے۔ ملاوٹی دودھ کا استعمال متعدد بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔

عرفان میمن کے مطابق مشکل حالات میں بھی ڈیری سیفٹی ٹیمیں روزانہ کی بنیاد پر ملک شاپس اور گاڑیوں کی چیکنگ کررہی ہیں۔

یاد رہے کہ چند ہفتوں پہلے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے وزیر اعظم  عمرن خان  کو بریفنگ دینے کے لیے بنائی گئی رپورٹ میں اہم انکشاف سامنے آیا تھا  کہ   پنجاب میں ملاوٹ شدہ دودھ پینے والے اضلاع کی فہرست تیار کر لی گئی ہے اور   پنجاب کے10 اضلاع کے شہری ملاوٹ شدہ دودھ پینے پرمجبور ہیں.

لاہوریئے ملاوٹ شدہ دودھ پینے میں پہلے نمبر آگئے ہیں اور ملاوٹ شدہ دودھ کی فہرست میں راولپنڈی، بہاولپور، گوجرانوالہ کےشہری شامل ہیں۔  مظفر گڑھ ،چنیوٹ، سرگودھا، ملتان ، اور اوکاڑہ میں بھی ملاوٹ شدہ دودھ کی فروخت جاری ہےاور  وزیر اعلی کے اپنے ضلع میں بھی شہری ملاوٹ شدہ دودھ پی رہےہیں.

لاہور میں دودھ میں پاؤڈر کی سب سے زیادہ مقدار ملائی جاتی ہے، لاہوریے ڈیٹرجنٹ اور پانی سے ملاوٹ والا دودھ بھی استعمال کر رہےہیں،  پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ملاوٹ کرنے والے اضلاع کی فہرست وزیراعظم کے  آفس کو بھیج دی گئی تھی۔