ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لیسکو سمیت بجلی کی تقسیم کار دیگر کمپنیوں کی نجکاری کی تیاری، پاور ڈویژن سے تفصیلات طلب

لیسکو سمیت بجلی کی تقسیم کار دیگر کمپنیوں کی نجکاری کی تیاری، پاور ڈویژن سے تفصیلات طلب
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : وفاقی حکومت نے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی(لیسکو) اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی(میپکو) سمیت بیچ فور میں شامل بجلی کی تقسیم کار دیگر کمپنیوں کی نجکاری کیلئے تیاری شروع کردی جب کہ نجکاری کمیشن نے پاور ڈویژن سے تفصیلات طلب کرلیں۔

رپورٹ کے مطابق پاور ڈویژن کی ہدایت پر میپکو انتظامیہ نے کمپنی کی بیلنس اور آف بیلنس شیٹس کی صفائی کا کام بھی شروع کردیا ہے۔

 نجکاری کمیشن نے بیچ فور میں شامل بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کی تیاری کا کام تیز کردیا ہے۔

لیسکو و میپکو کی نجکاری کے حوالے سے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں جبکہ میپکو کی نجکاری کیلئے پاور ڈویژن سے درخواست کی گئی ہے کہ میپکو کی تازہ ترین فنانشل آڈٹ رپورٹس فراہم کی جائیں۔

میپکو حکام کا کہنا ہے کہ کمپنی کے آڈٹ جلد مکمل ہوجائیں گے اور اس بارے میں کافی کام ہوچکا ہے۔

اس کے علاوہ نجکاری کمیشن نے بیج ٹو میں شامل بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں(ڈیسکوز)کی غیر منقولہ جائیداد کی بھی تفصیلات طلب کرلی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان جائیدادوں کی قانونی پوزیشن اور ریونیو ریکارڈ میں ان کی کیا پوزیشن ہے اور کس کے نام ہے، یہ سب تفصیلات فراہم کی جائیں۔

دستاویز کے مطابق پاور ڈویژن سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے اثاثہ جات اور ان کی ویلیو ایشن کی بھی تفصیلات فراہم کی جائیں اور ان کی انوینٹری تیار کرکے فراہم کی جائے۔

اس کے علاوہ بجلی کی تقسم کار کمپنیوں کے ملازمین اور پینشنرز کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں، اس میں یہ بھی بتایا جائے کہ کس بجلی کی تقسیم کارکمپنی کے کل کتنے ملازمین ہیں اور ان میں ریگولرز ملازمین کی تعداد کتنی ہے، کنٹریکٹ ملازمین کتنے ہیں، ڈیلی وجز کی کیا تعداد ہے۔

یہ بھی بتایا جائے کہ ان تمام کیٹیگریز کے ملازمین سے متعلق رولز اینڈ ریگولیشنز کیا ہیں، اسی طرح کس بجلی کی تقسیم کار کمپنی کے کتنے پینشنرز ہیں اور پینشنرز کے کیا واجبات ہیں۔

اسی طرح بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں(ڈیسکوز) کے ذمہ کتنے واجبات ہیں اور کس بجلی کی تقسیم کار کمپنی کے کتنے واجبات قابل وصول ہیں جو صارفین اور دوسرے اسٹیک ہولڈرز سے ڈیسکوز نے وصول کرنے ہیں۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پاور ڈویژن کی جانب سے میپکو سمیت بجلی کی تقسیم کار تمام کمپنیوں کے شیئرز اور پراپرٹیز کے ٹائٹل کی ٹرانسفر کا کام پہلے ہی شروع کیا جاچکا ہے۔

Ansa Awais

Content Writer