نواز شریف کی حالت بدستور تشویشناک، آئندہ دو روز میں لندن لیجانے کا فیصلہ


( زاہد چوہدری ) سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طبیعت بدستور تشویشناک، شریف فیملی کا میاں نواز شریف کو آئندہ دو روز میں لندن لے جانے کا فیصلہ، انتظامات مکمل، میاں شہباز شریف سمیت دیگر فیملی ممبران بھی ہمراہ جائیں گے۔        

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف 19 روز سے پلیٹ لیٹس کی کمی کے سنگین نوعیت کے عارضہ میں مبتلا ہیں اور تاحال ان کے پلیٹ لیٹس بار بار گرنے کی وجہ کا سراغ نہیں لگایا جاسکا۔ سروسز ہسپتال میں ان کے علاج پر مامور میڈیکل بورڈ کی جانب سے میاں نواز شریف کی فوری جنیٹک سٹڈی کروانے کیلئے کہا گیا تھا تاکہ بون میرو کے خود سے پلیٹس لیٹس نہ بنانے کی تشخیص ہوسکے اور اس کا علاج کیا جاسکے۔ تاہم جنیٹک ٹیسٹوں کی سہولت پاکستان میں دستیاب نہ ہونے پر ان کا علاج ممکن نہیں ہے۔

میاں نواز شریف 3 روز سے اپنے گھر میں قائم آئی سی یو میں زیر علاج ہیں جہاں ان کی طبیعت بتدریج بگڑ رہی ہے اور تمام تر علاج کے باوجود پلیٹ لیٹس کم ہورہے ہیں۔ میاں نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے بھی ان کی صحت کو تشویشناک قرار دیدتے ہوئے کہا ہے کہ تمام تر علاج کے باوجود پلٹ لیٹس مستحکم نہیں ہورہے۔ نواز شریف کی ہر گزرتے دن کے ساتھ گرتی ہوئی صحت کے پیش نظر شریف فیملی نے اب انہیں بیرون ملک لے جانے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکلوانے کیلئے وزارت داخلہ سے بھی رابطہ کر لیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے یا پھر قومی ایئر لائن کی ڈائریکٹ فلائیٹ سے لندن لیجانے کے انتظامات کیے جارہے ہیں۔ آئندہ دو روز کے دوران اتوار تک ان کو بیرون ملک لے جایا جائے گا ۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف ان کے علاج کے تمام انتظامات کر رہے ہیں اور وہ دیگر فیملی ممبران کے ہمراہ میاں نواز شریف کے ساتھ بیرون ملک جائیں گے۔