ویب ڈیسک : سندھ حکومت نے ٹرانسپورٹرز کو الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ 28 فروری تک روٹ پرمٹ حاصل کریں ورنہ گاڑیاں ضبط ہوں گی۔
سندھ حکومت نے صوبے بھر میں ٹریفک قوانین کی بالادستی اور مسافروں کے تحفظ کے لیے بڑے فیصلے کر لیے۔ اس حوالے سے سینئر صوبائی وزیر برائے اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے تمام ٹرانسپورٹرز کو ٹریفک قوانین اور روٹ پرمٹ کی شرائط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
شرجیل میمن نے واضح کیا کہ ہدایات کی روٹ پرمٹ اور قوانین کی خلاف ورزی پر گاڑیاں فوری ضبط کر لی جائیں گی اور قوانین کی عدم تعمیل پر ٹرانسپورٹ آپریٹرز کے خلاف مقدمات درج ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ یا معطل کر دی جائے گی۔
صوبائی وزیر نے مسافروں اور طلبہ کی حفاظت کے لیے اہم نکات پیش کرتے ہوئے کہا کہ بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ اور اسکول و کالج کی گاڑیوں میں گیس کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی اور تمام پبلک سروس گاڑیوں میں ایمرجنسی ایگزٹ (ہنگامی راستہ) اور فرسٹ ایڈ باکس کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈرائیورز کے پاس درست لائسنس کا ہونا لازمی ہے اور گاڑیاں صرف مکمل قانونی دستاویزات پر ہی چلائی جا سکیں گی۔
علاوہ ازیں 322 کلومیٹر سے زائد طویل سفر کرنے والی گاڑیوں میں دو لائسنس یافتہ ڈرائیورز کی موجودگی لازمی ہوگی۔
شرجیل میمن نے مزید کہا کہ اوور لوڈنگ، تیز رفتاری اور لاپرواہ ڈرائیونگ سے ہر صورت اجتناب کیا جائےاور نیشنل ہائی وے سیفٹی آرڈیننس کے تحت ایکسل لوڈ کی مقررہ حد پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔ انہوں نے تمام ٹرانسپورٹرز کو ہدایت کی کہ 28 فروری تک اپنے روٹ پرمٹس اور دیگر قانونی تقاضے پورے کر لیں، جس کے بعد صوبے بھر میں گاڑیوں کی چیکنگ کے لیے خصوصی مہم شروع کی جائے گی۔