( سٹی42)عالمی شہرت یافتہ ممتاز سرائیکی شاعر امان اللہ ارشدطویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔ وہ عرصہ دراز سے دل اور شوگر کے عارضے میں مبتلا تھے۔انہوں نے دھرتی کے دکھوں اور انسانی محرومیوں کو بھرپور سچائی کے ساتھ بیان کیا، مگر ان کی اصل پہچان عشقِ رسول ﷺ ہی بنی رہی۔ان کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق سرائیکی شاعر امان اللہ ارشد1971ء میں دیرہ دوست محمد کھائی خیر شاہ (ظاہر پیر) تحصیل خانپور، ضلع رحیم یار خان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے صوفی فیض محمد دلچسپ کی شاگردی اختیار کی جن کی صحبت نے ان کے فن کو روحانی گہرائی عطا کی۔ان کی نمایاں تصانیف میں “اکھیں خواب جگارے”، “ارشد دے ڈوہڑے”، “سک دا ساون”، “دھمال”، “تیڈیاں یاداں”، “آسرا فقیریں دا” اور “الہام دی بارش (نعتیہ مجموعہ) ” شامل ہیں۔ ان کے نعتیہ مجموعے کو سیرت النبیﷺ ایوارڈ سمیت کئی اعزازات سے نوازا گیا۔
ان کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی علاقے دیرہ دوست محمد (کھائی خیر شاہ) ظاہر پیر تحصیل خانپور ضلع رحیم یار خان میں ادا کر دی گئی۔نمازِ جنازہ میں سجادہ نشین دربارِ فرید خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ، سرائیکی رہنما خواجہ غلام فرید کوریجہ، چیئرمین سرائیکستان قومی کونسل ظہور دھریجہ، مظہر سعید گوپانگ، منظور خان دریشک، حافظ ارشاد احمد سویفزئی، ایم پی اے ڈاکٹر فیصل جمیل، جام منیر اختر شاہین، نور تھہیم سمیت سماجی، ادبی، سیاسی اور مذہبی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔آخر میں خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ نے ان کی مغفرت کے لیے اجتماعی دعا کرائی، جس کے بعد انہیں آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔