سٹی42ؒ: لاہور میں بسنت کے تہوار کا آج آخری روز ہے اور شہر بھر میں جشن و خوشی کا ماحول برقرار ہے۔ بچے، نوجوان، بڑے اور بزرگ سبھی پتنگ بازی اور پیچ لڑانے میں مصروف ہیں جبکہ سڑکیں، گلیاں اور چھتیں بسنت کے رنگوں سے بھرپور نظر آ رہی ہیں۔ شہریوں نے بسنت کے آخری دن کو یادگار بنانے کے لیے لبرٹی اور اندرون لاہور کا رخ کیا، جہاں خاندانوں نے مل کر یادگار تصاویر بنوائیں اور خوشیوں میں شریک ہوئے۔
بسنت کے تیسرے دن لاہوریوں کا جوش و خروش دیکھنے لائق رہا۔ شہری فیملیز کے ہمراہ لبرٹی پہنچ گئے اور پتنگوں کے ساتھ یادگاری تصاویر بنوانے لگے۔ تاجر برادری کی جانب سے بسنت کا بھرپور اہتمام کیا گیا، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے گئے اور مزے دار کھانوں و مٹھائیوں کا بھی دور رہا۔ شہری ایک دوسرے کی تواضع کر رہے تھے جبکہ بیرونِ ملک سے آئے مہمان بھی بسنت میں بھرپور حصہ لے رہے تھے۔
لاہور میں امریکا اور لندن سمیت دیگر ممالک سے بڑی تعداد میں اوورسیز پاکستانی بھی بسنت منانے پہنچے۔ اوورسیز پاکستانی بزنس مین خرم بٹ کا کہنا تھا کہ بسنت کا میلہ دو دہائیوں بعد سج رہا ہے، جس نے پرانی یادیں تازہ کر دیں۔ اوورسیز پاکستانیوں نے کہا کہ بسنت کی وجہ سے دوست احباب کے ساتھ محفلیں سجانے اور طویل عرصے بعد گڈیاں اڑانے کا موقع ملا۔
بسنت کے موقع پر شہر بھر میں فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایس پی ڈولفن اختر نواز نے والڈ سٹی لاہور کا دورہ کیا اور بسنت کے دوران ڈیوٹی پر مامور ڈولفن ٹیموں کی چیکنگ کی۔ ترجمان ڈولفن کے مطابق شہریوں اور نوجوانوں کو بسنت کے ضابطہ اخلاق سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
ایس پی ڈولفن اختر نواز نے ہدایت کی کہ ہوائی فائرنگ، آتش بازی اور منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ والڈ سٹی میں تعینات سیکیورٹی ٹیمیں کنٹرول روم سے منسلک رہیں گی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔