سٹی 42 : پری میچور بچوں میں ریٹینوپیتھی آف پری میچورٹی (ROP) کے باعث نابینا پن کی روک تھام پر ہونے والے تربیتی سیمینار میں نوزائیدہ بچوں میں نابینا پن کی روک تھام کے لیے بروقت تشخیص اور والدین میں اس بیماری کے متعلق آگاہی پر زور دیا گیا۔
کالج آف آفتھلمالوجی اینڈ الائیڈ ویژن سائنسز نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ پیڈیاٹرک میڈیسن، میو ہسپتال لاہور، اور یونیسیف کے اشتراک سے پری میچور بچوں میں ریٹینوپیتھی کی وجہ سے نابینا پن روکنے میں نرسوں کے اہم کردار پر مبنی ایک جامع تربیتی سیمینار کامیابی سے منعقد کیا گیا۔ اس سیمینار میں پری میچور بچوں میں ریٹینوپیتھی کے باعث نابینا پن کی روک تھام کے لیے آگاہی ورکشاپ لگائی گئی ، اس ورکشاپ میں مختلف ہسپتالوں کی نرسز نے شرکت کی ، ورکشاپ میں نوزائیدہ بچوں میں نابینا پن کی روک تھام کے لیے بروقت تشخیص اور والدین میں اس بیماری کے متعلق آگاہی پر زور دیا گیا، تاکہ بچوں کے مستقبل کو روشن بنایا جا سکے۔
ورکشاپ میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز بطور مہمانِ خصوصی موجود تھے، جبکہ معزز مقررین میں پروفیسر ڈاکٹر محمد معین (پرنسپل کالج آف آفتھلمالوجی/چیئرمین شعبہ آفتھلمالوجی اور پرو وائس چانسلر KEMU)، پروفیسر ڈاکٹر ہارون حامد (چیئرمین شعبہ پیڈیاٹرکس)، ڈاکٹر اکمل لئیق (پروفیسر ایمریٹس پیڈیاٹرک میڈیسن)، ڈاکٹر سائرہ (ہیلتھ آفیسر یونیسیف)، اور ڈاکٹر قرۃالعین (ہیلتھ اسپیشلسٹ یونیسیف) شامل تھے۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد معین نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے بتایا کہ قبل از وقت پیدا ہونے نومولود بچوں میں ہونے والی ریٹینوپیتھی نابینا پن کی ایک بڑی وجہ ہے، خاص طور پر وہ جو 35 ہفتوں کے حمل سے کم میں پیدا ہوئے، جن کا وزن دو کلو گرام سے کم ہو، یا آکسیجن کی ضرورت ہو۔ پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی پیدائش کی شرح اور قبل از وقت پیدائش کا سروائیول ریٹ بڑھ چکا ہے، جس کے پیش نظر ریٹینوپیتھی آف پریمیچورٹی (ROP) کی تشخیص اور بھی ضروری ہو گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر ان بچوں کی بروقت تشخیص نہ کی جائے تو یہ مرض وبا کی شکل اختیار کر سکتا ہے اور مستقل نابینا پن کا سبب بن سکتا ہے۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر، قبل از وقت پیدا ہونے والے نوزائیدہ بچوں کا ایک مہینے کے اندر اندر ماہر امراض چشم سے معائنہ کروانا ضروری ہے تاکہ ان کی آنکھوں کو بچایا جا سکے.
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز نے بچوں میں نابینا پن کی بیماری ROP کی تشخیص اور علاج کے بہترین لائحہء عمل اور نرسز کی تربیت کے اقدامات کو سراہا۔ یہ ایک انقلابی قدم ہے جو بچوں کی زندگیاں بدل سکتا ہے۔ انہوں نے پری میچور بچوں کے لیے کینگرو مدر کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے سمجھایا کی ابتدائی دنوں میں بچوں کی دیکھ بھال ضروری ہے۔ انہوں نے والدین میں ان قابلِ علاج امراض کے بارے میں آگاہی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
شعبہ پیڈیاٹرکس کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر ہارون حامد نے بتایا کہ پیڈیاٹریشن ROP کے باعث نابینا پن کی روک تھام کیلئے کس قدر اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب پیڈیاٹرک میڈیسن میں سپیشلائزیشن کے لیے پری میچور بچوں میں ROP کی تشخیص اور علاج کی تربیتی مہارت سیکھنا لازمی ہے۔ انہوں نے پنجاب بھر کی نرسز کو مستقبل قریب میں نوزائیدہ بچوں میں بیماریوں کی بروقت تشخیص کی تربیت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
پروفیسر ڈاکٹر اکمل لئیق نے شرکاء کو بتایا کہ تقریباً دو دہائی قبل، انہوں اور اس وقت کے شعبہ آنکھ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر اسد نے ROP کی صورتحال پر غور کیا اور پری میچور بچوں کی بروقت جانچ پڑتال اور علاج شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ROP کی روک تھام میں نرسنگ کے کلیدی کردار پر بھی زور دیا۔