ڈپریشن کیا ہے،کیوں ہوتا ہے،علاج کیسے کیا جائے؟

Health tips
What is Depression

(ویب ڈیسک)ڈپریشن کسی کو بھی ہوسکتا ہے۔ اگر آپ کا روزمرہ کے کاموں میں دل نہیں لگتا، آپ بہت اداس، مایوس یا بیزار رہتے ہیں یا گھبراہٹ، بے چینی اور بے بسی کا شکار رہتے ہیں تو شاید آپ بھی ڈپریشن کا شکار ہیں۔

 اگرچہ یہ بات کئی لوگ تسلیم نہیں کرتے، لیکن ڈپریشن بھی ایک باقاعدہ بیماری ہے۔ اس کی دیگر علامات میں ٹھیک سے نیند نہ آنا، بھوک نہ لگنا یا وزن میں کمی، فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور توجہ و یاداشت کی کمی جیسے مسائل بھی شامل ہیں یہاں تک کہ اس بیماری کا شکار لوگ اپنی جان لینے کے بارے میں بھی سنجیدگی سے سوچنے لگتے ہیں۔اگر یہ کیفیت بہت دیر تک برقرار رہے تو انسان کو زندگی سے اکتاہٹ محسوس ہونے لگتی ہے جسے طبی اصطلاح میں ’کلینیکل ڈپریشن‘ کہتے ہیں۔

 ڈپریشن کے بارے میں سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ’’یہ ایک بیماری ہے‘‘، جیسا کہ نزلہ،  زکام،  بلڈ پریشر،  ذیابیطس یا دیگر امراض۔ جیسے کوئی بھی انسان جسمانی بیماریوں کا شکار ہوسکتا ہے بالکل اسی طرح نفسیاتی بیماریاں بھی  انسان کو جکڑ سکتی ہیں۔اس بیماری کا آغاز کوئی ظاہری واقعہ جیسے کسی اپنے کی جدائی یا انتقال یا زندگی کے معاملات میں سے کسی میں ناکامی کی وجہ سے ہوسکتا ہے اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ اس کی بظاہر کوئی وجہ دکھائی نہ دے رہی ہو۔  نفسیاتی تکلیف  کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دکھائی نہیں جاسکتی اسے سمجھنے کے لئے کسی ہمدرد کا ساتھ مل جائے تو بہتری کے امکانات روشن ہوجاتے ہیں۔

  ماہرینِ نفسیات کے مطابق ا گر ڈپریشن کی نوعیت زیادہ نہیں اور آپ بہت زیادہ مسائل کا شکار نہیں ہیں تو اس صورت میں آپ اپنی خوراک ٹھیک رکھ کر، نیند پوری کرکے اور باقاعدگی سے ورزش کرکے خود بھی اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔لیکن اگر ڈپریشن کی علامات میں شدت اتنی ہے کہ آپ کے روزمرہ کے معمولات متاثر ہو رہے ہیں یا گھر والے، دوست یا آس پاسں کے افراد کہہ رہے ہیں کہ آپ میں کوئی واضح تبدیلی آئی ہے تو اسکی صحیح تشخیص کے لیے آپ کو پروفیشنل کی مدد لینی چاہیے۔

سب سے ضروری ہے کہ خود کو مصروف کیا جائے۔ مصروفیت کا مطلب ہر گز بھی یہ نہیں کہ خود کو غیر ضروری کاموں میں بری طرح الجھا لیا جائے جو کہ عموماً دیکھنے میں آتا ہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے  ایک متوازن ’’ ٹائم ٹیبل‘‘ کی جس میں سونے جاگنے اور کھانا کھانے جیسے کاموں کو بھی اوقات کار کا پابند کیا جائے۔شراب نوشی،  سگریٹ نوشی،  چائے نوشی یا اس طرح کی دیگر چیزوں کے استعمال سے اجتناب کیا جائے۔اپنے معمولات میں ہلکی پھلکی ورزش،  اخبارات یا کتب کا مطالعہ، قرآن پاک کی تلاوت،  نماز کی پابندی کی کوشش اور اپنی دلچسپی اور مشاغل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مثبت سرگرمیوں کو شامل کیا جائے۔

سائیکالوجسٹ عام طور پر سائیکوتھراپی، کونسلنگ یا سائیکالوجیکل سیشن سے علاج کرتے ہیں جبکہ سائیکیٹرسٹ کچھ مخصوص ٹیسٹوں کے بعد آپ کے لیے دوائی تشخیص کرتے ہیں۔ عام طور پر ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں علاج ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔

اگر آپ کے خاندان یا دوست احباب میں کوئی ڈپریشن کی علامات ظاہر کر رہا ہے تو اس صورت میں آپ ان کو الگ بیٹھا کر پوچھیں کہ وہ کیسا محسوس کر رہا ہے۔تصویر کا کیپشنماہرین کے مطابق بہتر ہو گا کہ آپ ڈپریشن کے شکار افراد پرنظر رکھیں اور انہیں معالج کے پاس جانے کے لیے مائل کریں۔ایسے شخص سے پوچھا جائے کہ وہ کس مشکل کا شکار ہے۔