پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی اراکین میں تلخ کلامی، وجہ کیا بنی؟

Politian clash during the meeting
PTI and PPP Flag

وقاص عظیم: پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی اراکین میں تلخ کلامی۔ پیپلزپارٹی اراکین کا کہنا ہے کہ منی بجٹ عوام کے لیے مہنگائی کا آتش فشاں ہوگا، حکومت بتائے کون کون سی پیشگی شرائط پوری نہیں ہورہیں، چیئرمین کمیٹی طلحہ محمود نے کہا میک اپ پر ٹیکس لگایا جائے، شیری رحمان بیان پر احتجاجا واک آؤٹ کر گئیں۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی اراکین کے مابین منی بجٹ اور آئی ایم ایف کی شرائط پر تلخ کلامی ہوگئی۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی ایم ایف معاہدے کی تفصیلات شیئر کی جائیں، ایسی کونسی پیشگی شرائط ہیں جو طے نہیں ہو رہیں۔ ایک سال سے ملک میں مہنگائی کا طوفان ہے اور ملکی کرنسی کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی ہے۔

جس پر پی ٹی آئی کے رکن سینیٹر فیصل سلیم الرحمان نے کہا کہ انہوں نے میری پارٹی کا نام لیا ہے یہاں پر سیاسی تقریر کی جا رہی ہے، آئی ایم ایف سے سب سے زیادہ قرض پیپلزپارٹی پارٹی کے دور میں لیا گیا اور مہنگائی ان لوگوں کے بغیر سوچے سمجھے معاہدوں کی وجہ سے ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے سفارش کی کہ غیر ضروری درآمدات پر عارضی پابندی لگائی جائے، میک اپ کے سامان پر ٹیکس عائد کیا جائے جس پر سینیٹر شیری رحمان نے کمیٹی سے احتجاجا واک آؤٹ کردیا۔ 

سیکریٹری خزانہ حامد یعقوب شیخ نے کمیٹی کو بتایا کہ منی بجٹ پر کام ہورہا ہے، کچھ ایڈجسٹمنٹ کرنی پڑ رہی ہیں۔ منی بجٹ پر آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے منی بجٹ پہلے کابینہ پھر پارلیمنٹ میں پیش کریں گے۔