ثاقب نثارمبینہ آڈیو : اٹارنی جنرل کی تحقیقات کیلئےکمیشن کی مخالفت

islamabad high court
islamabad high court

 ویب ڈیسک : اسلام آباد ہائیکورٹ، ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کی تحقیقات کیلئے دائر درخواست پر سماعت ،اٹارنی جنرل درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر معاونت کیلئے پیش ہوئے،اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان نے آڈیو ٹیپ پرکمیشن بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو ٹیپ پر کمیشن کی کوئی ضرورت نہیں، ہم جس راستے پر چل پڑے ہیں، بہت ہی خطرناک ہے۔

 تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو ٹیپ کی تحقیقات کیلئے کمیشن تشکیل دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی ، وکیل نے کہا سابق چیف جسٹس کی مبینہ آڈیو ٹیپ نےعدلیہ کے وقار کو نقصان پہنچایا ،عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کیلئےاس بات کا تعین ضروری ہے کہ آڈیو اصلی ہے یا جعلی، مبینہ آڈیو ٹیپ سے تاثر ملتا ہے کہ عدلیہ بیرونی قوتوں کے پریشر میں ہے۔

وکیل نے مزید دلائل میں کہا عدلیہ کو اپنے نام کے تحفظ کے لیے آزاد خودمختار کمیشن تشکیل دینا چاہیے،عوام کا آزاد ،غیر جانبدارعدلیہ پراعتماد بحال کرنا ضروری ہے، اچھی شہرت کے حامل افراد پر مشتمل آزاد خود مختار کمیشن تشکیل دیا جائے۔

اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان عدالت میں پیش ہوئے اور آڈیو ٹیپ پر کمیشن بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو ٹیپ پر کمیشن کی کوئی ضرورت نہیں، ہم جس راستے پر چل پڑے ہیں، بہت ہی خطرناک ہے، اس معاملے کو پارلیمنٹ میں جانا چاہئے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بتائیں یہ عدالت کس کو تحقیقات کیلئے ہدایت دے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ درخواست آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی گئی ہے۔یوں لگتا ہے یہ پراکسی درخواست ہے جو انہوں نے دائر کی۔ایسا تاثر نہیں ہونا چاہیے کہ درخواست گزار کسی اور کا کیس لڑ رہے ہیں۔کبھی کبھی ہمیں پتہ نہیں ہوتا ہمیں کوئی اور استعمال کر رہا ہے۔یہ عدلیہ کو ہراساں کرنے اور دباؤ ڈالنے کا سیزن ہے۔کبھی کوئی آڈیو، کبھی کوئی بنایا گیا ڈاکومنٹ ریلیز کیا جاتا ہے۔درخواستگزار نے 2017 کے واقعات کا ذکر کیا ہے۔ایک اور وزیراعظم تھا جسے مبہم عدالتی حکم پر پھانسی بھی دی گئی۔

اٹانی جنرل نے مزید کہا کہ بینظیر کی حکومت واپس بحال نہیں کی جاتی لیکن ایک اور کر دی جاتی ہے۔ماضی میں بریف کیس بھر کر بھی دیئے جاتے رہے۔درخواست گزار نے ماضی میں جانا ہے تو درخواست میں ترمیم کریں کیوں 2017 میں صرف جائیں، ذوالفقار علی بھٹو تک جاتے ہیں۔جلا وطن کرنے کی سہولت ایک وزیراعظم کو دی جاتی ہے تو بھٹو کو کیوں نہیں؟ پتہ لگنا چائیے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو کیوں ہٹایا گیا؟ رقم سے بھرے ہوئے سوٹ کیس کسے جاتے رہے؟جو بھی زندہ لوگ ہیں ان سب کا احتساب کر لیتے ہیں۔صرف چُن کر ایک وزیراعظم کیلئے پراکسی بن کر کیوں لوگ عدالت آرہے ہیں؟ ایک وزیراعلی ٰنے جج کو فون کیا، فیصلہ کالعدم ہو گیا لیکن کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی۔ہزاروں لوگوں کو نوکری سے نکال دیا گیا انکی کوئی ویڈیو نہیں آئی۔یہ پراکسی جنگ ہے، ایک شخص کیلئے بار بار ویڈیوز آ رہی ہیں۔ہر کوئی آج کہہ رہا ہے کہ میرے پاس دو ویڈیوز ہیں چار ویڈیوز ہیں۔سینکڑوں لوگوں کی زمینوں پر قبضہ ہو جاتا ہے اسکی کوئی ویڈیو نہیں آئی۔

 چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آج صلاح الدین کو سنتے ہیں۔جس پر  اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے جواب دیاآج یوم حساب ہے۔وکلاء ڈسٹرکٹ کورٹ کے ججز کے کپڑے پھاڑ دیتے ہیں پھر ایک مذمت جاری کر دی جاتی ہے۔بار نے ہی سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر چیف جسٹس کے خلاف نعرے لگائے۔  جس پر صلاح الدین نے کہا کہ اٹارنی جنرل ہر کیس کا ذمہ دار بار ایسوسی ایشن کو ٹھہرا رہے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کے عدلیہ اور ججز کے خلاف بیانات نکال کر دیکھ لیں،   یہ توجہ ہٹانے کیلئے کہا جاتاہے کہ 70 سال کا احتساب کریں یا کسی کا نہ کریں۔