ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

انتہائی افسوسناک خبر ۔۔برفانی تودے کی زد میں آنے سے 11 کوہ پیما مارے گئے،6  لاپتا

 انتہائی افسوسناک خبر ۔۔برفانی تودے کی زد میں آنے سے 11 کوہ پیما مارے گئے،6  لاپتا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: GOOGLE
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: روس کے شمالی قفقاز کے علاقے کباردینو بالکاریا میں ایک بڑے برفانی تودے کی زد میں آنے سے 11 کوہ پیما مارے گئے، جبکہ  دیگر6  لاپتا بتائے گئے ہیں۔ امدادی ٹیموں کو خراب موسم، دشوار گزار پہاڑی علاقے اور مزید برفانی تودے گرنے کے خطرے کے باعث تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں انتہائی مشکلات کا سامنا۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق  چینی خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے پیر کو بتایا کہ حادثہ اتوار کو مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً 5 بجے بیزنگی گھاٹی میں پیش آیا۔ بتایا گیا ہے کہ 5,025 میٹر بلند ماؤنٹ مژیرگی سے ایک بڑا برفانی تودہ نیچے آیا اور 33 کوہ پیماؤں پر مشتمل ایک گروپ اس کی زد میں آگیا۔روسی خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق حادثے کے فوراً بعد امدادی ٹیموں کو جائے وقوعہ روانہ کیا گیا اور ایک ایم آئی-8 ہیلی کاپٹر بھی تلاش اور بچاؤ کی کارروائی میں شامل ہوا۔ تین افراد کو بحفاظت نکال کر نالچک منتقل کیا گیا۔ہنگامی خدمات  کے ادارے کے مطابق پیر  کی صبح 9 بجے تک 10 کوہ پیما خود پہاڑ سے نیچے اترنے میں کامیاب ہوگئے تھے، تاہم 6 افراد کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی تھی۔ حادثے کے بعد بڑے پیمانے پر تلاش اور بچاؤ کا آپریشن شروع کیا گیا، جس میں 50 سے زیادہ ہنگامی کارکن حصہ لے رہے ہیں۔حکام کے مطابق دشوار گزار جغرافیائی حالات کے علاوہ دوبارہ برفانی تودہ گرنے کا خدشہ امدادی کارروائیوں میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ خراب موسم بھی امدادی ٹیموں کی نقل و حرکت اور فضائی کارروائیوں کو متاثر کر رہا ہے۔
واضح رہےکہ یہ رواں سال کوہ پیماؤں کی بڑی تعداد میں ہلاکت کا دوسرا بڑا واقعہ بتایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل 30 جولائی کو پاکستان کے گلگت بلتستان میں قراقرم کے براڈ پیک پر کیمپ 2 اور کیمپ 3 کے درمیان برفانی تودہ گرنے سے 10 کوہ پیما ہلاک ہوگئے تھے۔اس حادثے میں دنیا کے معروف کوہ پیما نرمل پرجا، جنہیں ’نِمز دائی‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے سمیت نیپال کے پانچ کوہ پیما شامل تھے۔ اس گروپ میں پاکستان، عمان، امریکہ اور چین کا ایک ایک کوہ پیما بھی شامل تھا۔ اس واقعے کو کوہ پیمائی کی دنیا کی حالیہ مہلک ترین قدرتی آفات میں سے ایک قرار دیا گیا تھا۔

ایس ایم عتیق شاہ بخاری سٹی نیوز نیٹ ورک سے وابستہ سینئر صحافی ہیں جو صحافت کی دنیا میں 25 سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔